وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مسلح علیحدگی پسند گروہوں کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور پاکستان کی تقسیم کے نعرے لگانے والے عناصر کے ساتھ بات چیت نہیں ہوگی۔

وزیرِ اعلیٰ کے بیان کے مطابق صوبائی اور وفاقی ادارے سکیورٹی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت عام شہریوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانے والے گروہوں کے خلاف دباؤ برقرار رکھے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جو افراد رضاکارانہ طور پر ہتھیار چھوڑ کر قانون کے سامنے آئیں، ان کے معاملات الگ قانونی اور حکومتی طریقۂ کار کے تحت دیکھے جا سکتے ہیں۔

بلوچستان کئی برسوں سے شورش اور پرتشدد حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی سمیت مختلف مسلح تنظیمیں سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور بعض ترقیاتی منصوبوں سے وابستہ افراد کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔ حکومت ان کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتی ہے، جبکہ کالعدم تنظیمیں اپنے حملوں کو سیاسی اور قوم پرستانہ مطالبات سے جوڑتی ہیں۔

صوبے میں امن و امان کی بحث کے ساتھ لاپتا افراد، وسائل کی تقسیم، سیاسی نمائندگی اور ماورائے عدالت اقدامات کے الزامات بھی طویل عرصے سے زیرِ بحث ہیں۔ انسانی حقوق کے حلقے اور بعض سیاسی جماعتیں ان مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور شفاف قانونی عمل پر زور دیتی رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہری شکایات اور مسلح تشدد کو ایک ہی انداز میں نہیں دیکھا جا سکتا اور جائز سیاسی معاملات کے لیے آئینی راستے دستیاب ہیں۔

سرفراز بگٹی کا تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کارروائیوں اور شدت پسند حملوں کی اطلاعات مسلسل آ رہی ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق بنیادی ہدف شہریوں کا تحفظ، ریاستی عمل داری کی بحالی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو محفوظ بنانا ہے۔

مبصرین کے نزدیک حکومت کی سخت پالیسی کا عملی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ سیاسی اعتماد، قانونی شفافیت اور مقامی آبادی کے معاشی و سماجی خدشات کو کس حد تک حل کیا جاتا ہے۔ فی الحال صوبائی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ مسلح کارروائیاں جاری رکھنے والے گروہوں کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات حکومتی ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں۔