مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کی نئی آٹھ رکنی کابینہ نے جمعہ 4 ستمبر 2026 کو عہدوں کا حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب مظفرآباد کے ایوانِ صدر میں ہوئی جہاں قائم مقام صدر چوہدری طارق فاروق نے نئے وزرا سے حلف لیا۔ اس مرحلے کے مکمل ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم نئی حکومت کا ابتدائی انتظامی ڈھانچہ باضابطہ طور پر فعال ہو گیا ہے۔

حلف اٹھانے والے وزرا میں سردار میر اکبر خان، وقار نور، ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی، چوہدری اظہر صادق، ثاقب مجید راجہ، راجہ ریاست، عمیر نعیم اور عبدالرحمن آرائیں شامل ہیں۔ تقریب میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم بیرسٹر افتخار علی گیلانی، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، قانون ساز اسمبلی کے ارکان، چیف سیکریٹری اور دیگر سرکاری حکام و معززین نے شرکت کی۔

دستیاب سرکاری اور صحافتی رپورٹوں کے مطابق کابینہ سیکشن نے وزرا کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جبکہ وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین 1974 کی متعلقہ شق کے تحت ان ناموں کی منظوری دی۔ نئے وزرا نے آئین اور قانون کے مطابق ذمہ داریاں ادا کرنے اور عوامی فلاح کے لیے کام کرنے کا حلف اٹھایا۔ فوری طور پر قلم دانوں کی تقسیم کا اعلان نہیں کیا گیا؛ حکومتی ذرائع کے مطابق محکمے بعد میں مختص کیے جائیں گے۔

افتخار علی گیلانی نے 28 اگست کو قانون ساز اسمبلی میں قائدِ ایوان منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تھا۔ مختلف رپورٹوں میں ووٹوں اور جماعتی تعداد کے اعداد میں معمولی فرق بیان ہوا ہے، تاہم یہ بات مشترک طور پر رپورٹ ہوئی کہ مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کو 53 رکنی ایوان میں حکومت بنانے کے لیے واضح اکثریت حاصل ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی مرکزی اپوزیشن جماعت ہے۔ کابینہ کی تشکیل اسی انتخابی عمل کے بعد نئی حکومت کے قیام کا اگلا آئینی مرحلہ تھی۔

ابتدائی کابینہ کو محدود تعداد میں رکھنے کے بعد آئندہ مرحلے میں مزید وزرا یا مشیروں کی شمولیت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، مگر اس بارے میں کوئی حتمی فہرست یا تاریخ جاری نہیں ہوئی۔ اس لیے موجودہ طور پر صرف آٹھ حلف اٹھانے والے ارکان کو باضابطہ کابینہ کا حصہ سمجھا جائے گا۔ قلم دانوں کی تقسیم کے بعد یہ واضح ہوگا کہ مالیات، تعلیم، صحت، تعمیرات، بلدیات اور دیگر اہم شعبوں کی ذمہ داریاں کن وزرا کو ملتی ہیں۔

نئی کابینہ کے سامنے انتظامی تسلسل، ترقیاتی منصوبوں، بنیادی خدمات اور قانون ساز اسمبلی کے ساتھ حکومتی رابطے کو منظم کرنے کا فوری مرحلہ ہے۔ حلف برداری سے وزرا کو آئینی طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کا اختیار مل گیا ہے، تاہم حکومت کی عملی ترجیحات، محکموں کی تقسیم اور ممکنہ توسیع سے متعلق مکمل تصویر آئندہ سرکاری نوٹیفکیشنز کے بعد سامنے آئے گی۔