کراچی: سندھ میں ایک ہفتے کے دوران ایم پاکس کے چار نئے تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد رواں سال صوبے میں رپورٹ ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 41 ہو گئی ہے۔ سندھ انفیکشس ڈیزیز ہسپتال نیپا کے حکام کے مطابق تازہ مریض اندرونِ سندھ سے تعلق رکھنے والا 19 سالہ نوجوان ہے، جسے جسم پر دانے نمودار ہونے کے بعد جمعرات کو ہسپتال لایا گیا۔ نمونے لے کر پولیمریز چین ری ایکشن، یعنی PCR، ٹیسٹ کیا گیا اور وائرس کی تصدیق کے بعد اسے آئسولیشن وارڈ میں طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

اس سے ایک روز پہلے سامنے آنے والی ہسپتال اپ ڈیٹ میں تین مریضوں کے PCR مثبت ہونے اور ایک مشتبہ مریض کی رپورٹ کا انتظار ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ پہلے تصدیق شدہ مریضوں میں اندرونِ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اور اس کی بیٹی، جبکہ کراچی کے فیڈرل بی ایریا کا 46 سالہ شخص شامل تھے۔ 5 ستمبر کی تازہ رپورٹ میں 19 سالہ نوجوان کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ہفتے کے نئے تصدیق شدہ کیسز چار بتائے گئے۔ دستیاب رپورٹوں میں مریضوں کے ممکنہ باہمی رابطے، سفر کی تاریخ، وائرس کی جینیاتی قسم یا انفیکشن کے ماخذ کی تفصیل جاری نہیں کی گئی؛ اس لیے مقامی منتقلی کی مخصوص زنجیر کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

ہسپتال حکام کے مطابق رواں سال کے 41 تصدیق شدہ کیسز میں سے 28 کراچی سے باہر سندھ کے اضلاع اور 13 صوبائی دارالحکومت میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ عدد سال کے دوران سامنے آنے والے تمام لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز کا مجموعی شمار ہے، نہ کہ ایک وقت میں ہسپتال میں موجود یا فعال مریضوں کی تعداد۔ اے آر وائی نیوز نے ہسپتال انتظامیہ کے حوالے سے بتایا کہ حالیہ چار زیرِ علاج مریضوں میں سے دو کو ڈسچارج کیا جا چکا جبکہ دو تاحال زیرِ علاج تھے۔ مریضوں کی مکمل طبی کیفیت، صحت یابی کی تاریخوں اور رابطہ افراد کی نگرانی سے متعلق جامع صوبائی بلیٹن فوری طور پر دستیاب نہیں تھا۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ایم پاکس ایک وائرل متعدی بیماری ہے جس میں جلد پر دانے یا تکلیف دہ اور خارش والے زخم، بخار، سر اور پٹھوں میں درد، کمزوری اور لمف نوڈز کی سوجن ہو سکتی ہے۔ علامات عموماً وائرس سے سامنا ہونے کے ایک ہفتے کے اندر شروع ہوتی ہیں، مگر ایک سے 21 دن کے دوران بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ بیماری کی علامات دوسری جلدی اور متعدی بیماریوں سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں، اس لیے صرف ظاہری دانوں کی بنیاد پر حتمی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔ عالمی ادارۂ صحت PCR کو ترجیحی لیبارٹری ٹیسٹ قرار دیتا ہے اور عموماً جلدی زخم، سیال یا کھرنڈ سے نمونہ لیا جاتا ہے۔

ایم پاکس بنیادی طور پر متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی جسمانی رابطے، جلدی زخموں یا آلودہ کپڑوں، بستر اور دوسری اشیا کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ بیماری کے شبہے کی صورت میں طبی مشورہ لینا، دانوں کو ڈھانپنا، ہاتھ صاف رکھنا، مشترکہ ذاتی اشیا سے گریز اور صحت حکام کی ہدایت کے مطابق علیحدگی اہم احتیاطیں ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق متاثرہ شخص اس وقت تک دوسروں کو وائرس منتقل کر سکتا ہے جب تک تمام زخم بھر نہ جائیں، کھرنڈ گر نہ جائیں اور نئی جلد نہ بن جائے۔ یہ عمومی طبی رہنمائی ہے؛ ہر مریض کا علاج اور آئسولیشن کا دورانیہ معالج اس کی حالت کے مطابق طے کرے گا۔

تازہ کیسز کے بعد اہم قابلِ تصدیق مراحل میں متاثرہ افراد کے قریبی رابطوں کی شناخت، علامات رکھنے والے افراد کی بروقت جانچ، مریضوں کے حتمی نتائج اور محکمہ صحت سندھ کی باقاعدہ مجموعی اپ ڈیٹ شامل ہیں۔ دستیاب معلومات چار نئے PCR تصدیق شدہ کیسز اور سالانہ مجموعی تعداد 41 ہونے کی تصدیق کرتی ہیں، مگر صوبے میں غیر تشخیص شدہ کیسز کی ممکنہ تعداد یا کسی وسیع وبائی پھیلاؤ کا قطعی اندازہ ان محدود ہسپتال اعداد سے نہیں لگایا جا سکتا۔