اسلام آباد: وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے حج 2027 کی نجی اسکیم کے تحت پیکیج منتخب کرنے اور ادائیگی مکمل کرنے کے لیے 20 نومبر 2026 کی آخری تاریخ مقرر کر دی ہے۔ وزارت کے ترجمان محمد عمر بٹ کے مطابق مقررہ مدت تک نجی کوٹہ استعمال نہ ہونے کی صورت میں وزارت کے پاس خالی رہ جانے والی نشستیں دوبارہ مختص کرنے کا اختیار ہوگا۔

پاکستان کے لیے حج 2027 کا مجموعی کوٹہ 179,210 بتایا گیا ہے۔ اس میں 107,526 نشستیں سرکاری اسکیم اور 71,684 نشستیں نجی حج منتظمین کے لیے رکھی گئی ہیں۔ 20 نومبر کی مدت صرف نجی اسکیم میں پیکیج انتخاب اور ادائیگی سے متعلق ہے؛ اسے سعودی عرب روانگی، ویزا اجرا یا حج کے تمام بعد کے انتظامی مراحل کی آخری تاریخ نہیں سمجھنا چاہیے۔

وزارت نے نجی اسکیم کے لیے 16 بنیادی پیکیجز حتمی قرار دیے ہیں، جن کی قیمت تقریباً 14 لاکھ روپے سے 37 لاکھ 50 ہزار روپے تک ہے۔ نجی پیکیجز میں قیام کی مدت، مکہ و مدینہ میں ہوٹل کی سطح و فاصلہ، پرواز، خوراک، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ مختصر مدت، بیرونِ ملک سے براہِ راست پرواز اور فائیو اسٹار قیام جیسے اختیارات بھی دستیاب بتائے گئے ہیں، اس لیے صرف مجموعی قیمت کے بجائے مکمل خدمات اور شرائط دیکھنا ضروری ہوگا۔

ترجمان نے عازمین کو ہدایت دی کہ وہ پیکیج کا انتخاب اور تمام ادائیگی صرف وزارت کے حج پورٹل یا سرکاری پاک حج ایپ کے ذریعے کریں۔ کسی فرد، ایجنٹ یا کمپنی کو براہِ راست رقم دینے سے ہونے والے نقصان کی ذمہ داری وزارت قبول نہیں کرے گی۔ وزارت کے مطابق بیشتر منظور شدہ حج آرگنائزر اپنی پیشکشیں ڈیجیٹل پورٹل پر اپ لوڈ کر چکے ہیں اور سرکاری چینلز کے ذریعے بکنگ کا عمل جاری ہے۔

عازمین کے لیے اس ہدایت کا عملی مطلب یہ ہے کہ کمپنی کی منظوری، پیکیج کی تفصیل، ادائیگی کا سرکاری ریکارڈ اور رسید ایک ہی نظام میں محفوظ ہوں۔ ادائیگی سے پہلے منتظم کا نام، پیکیج کوڈ، خدمات، منسوخی یا رقم واپسی کی شرائط، رہائش اور پرواز کی تفصیل پڑھنا ضروری ہے۔ کسی غیر سرکاری اکاؤنٹ، نقد ادائیگی یا ذاتی رابطے پر اعتماد کرنا وزارت کی جاری کردہ حفاظتی ہدایات کے خلاف ہوگا۔

یہ نجی آپریٹرز کے لیے پاکستان کی نئی چار سالہ حج پالیسی کے تحت پہلی بڑی حتمی مدت ہے۔ وفاقی کابینہ نے جولائی میں 2027 سے 2030 تک کا پالیسی فریم ورک منظور کیا تھا، جس سے ہر سال مکمل نئی پالیسی جاری کرنے کے بجائے کئی سالہ قواعد فراہم کرنے کا مقصد رکھا گیا۔ تاہم ہر حج سیزن کی عملی تاریخیں، سعودی تقاضے، سروس معاہدے اور ادائیگیاں متعلقہ سال کے الگ شیڈول کے مطابق ہی پوری ہوں گی۔

نجی اسکیم کی نگرانی اس لیے بھی اہم ہے کہ 2025 میں نجی شعبے کے لیے مختص پاکستان کا حصہ 89,801 سے کم ہو کر تقریباً 25 ہزار رہ گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق آپریٹرز سعودی ادائیگی اور سروس معاہدوں کی مقررہ تاریخیں پوری نہ کر سکے تھے، جس سے 67 ہزار سے زیادہ خواہش مند عازمین سفر نہ کر سکے۔ موجودہ ڈیجیٹل بکنگ، مرکزی ادائیگی اور 20 نومبر کی مدت کا مقصد ایسے انتظامی خطرات کو پہلے مرحلے میں قابو کرنا ہے۔

وزارت کے مطابق سرکاری حج اسکیم میں 13 ہزار سے زائد عازمین مجموعی طور پر تقریباً 8.7 ارب روپے جمع کرا چکے ہیں۔ یہ اعداد نجی اسکیم کی موجودہ بکنگ کے برابر نہیں اور دونوں کو الگ پروگرام سمجھنا ضروری ہے۔ نجی کوٹے کی حتمی استعمال شدہ تعداد، کسی ممکنہ دوبارہ تقسیم اور اگلے سعودی مراحل کی صورتِ حال 20 نومبر کے بعد سرکاری اعداد سے واضح ہوگی۔

موجودہ مصدقہ فیصلہ آخری تاریخ اور سرکاری ادائیگی چینل کا تعین ہے۔ پیکیج منتخب کرنے سے خودکار ویزا ضمانت نہیں بنتی؛ عازم کو پاسپورٹ، طبی، بایومیٹرک، تربیتی اور سعودی عرب کے دیگر قابلِ اطلاق تقاضے بھی مقررہ وقت پر پورے کرنا ہوں گے۔