مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم افتخار گیلانی نے اپنی آٹھ رکنی کابینہ کے وزرا میں قلمدان تقسیم کر دیے ہیں، جبکہ متعدد اہم وزارتیں اور محکمے فی الحال اپنے پاس رکھے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق قلمدانوں کی تقسیم حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے تحت رولز آف بزنس (نظرثانی شدہ) 1985 کے رول 3(4) کے مطابق کی گئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سردار میر اکبر کو فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ کے ساتھ باغ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ وقار احمد نور کو جنگلات، جنگلی حیات اور ماہی گیری کے محکمے ملے ہیں، جبکہ ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کو صحت کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ چوہدری اظہر صادق اعلیٰ تعلیم کے وزیر ہوں گے اور سردار عمیر نعیم ابتدائی و ثانوی تعلیم کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
راجہ ثاقب مجید کو توانائی اور آبی وسائل، راجہ محمد ریاست کو ریونیو اور بحالیات جبکہ چوہدری عبدالرحمان آرائیں کو سیاحت، صنعت، محنت اور معدنی وسائل کے محکمے دیے گئے ہیں۔ اس تقسیم کے باوجود وزیراعظم نے بلدیات و دیہی ترقی، مواصلات و ورکس، خزانہ و ان لینڈ ریونیو، زراعت، لائیو اسٹاک اور آبپاشی، اطلاعات و انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور منصوبہ بندی و ترقی سمیت کئی کلیدی محکمے اپنے پاس رکھے ہیں۔
ڈان کے مطابق ان محکموں کو وزیراعظم کے پاس رکھنے کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ پونچھ اور سدھنوتی کے اضلاع میں سات نشستوں پر انتخابات ہونا باقی ہیں اور بعد میں کابینہ میں توسیع کا امکان موجود ہے۔ حکومت نے اس مرحلے پر کابینہ نسبتاً محدود رکھی ہے، اس لیے اہم پالیسی شعبوں کی ایک بڑی تعداد براہ راست وزیراعظم کے پاس ہے۔
قلمدانوں کی تقسیم کے بعد وزیراعظم افتخار گیلانی نے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں حکومت کے ابتدائی 100 روزہ پروگرام کی ترجیحات کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس پروگرام میں صحت، تعلیم، نوجوانوں کے لیے مواقع، عوامی سہولتوں اور بنیادی ڈھانچے کو ترجیحی شعبوں کے طور پر سامنے رکھا گیا ہے۔
نئی کابینہ کے لیے عملی چیلنج یہ ہوگا کہ محدود وزارتی ڈھانچے کے باوجود بنیادی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں میں انتظامی تسلسل برقرار رکھا جائے۔ خاص طور پر خزانہ، منصوبہ بندی، مواصلات اور بلدیات جیسے بڑے محکموں کا وزیراعظم کے پاس ہونا فیصلہ سازی کو مرکز میں رکھتا ہے، تاہم آئندہ کابینہ کی ممکنہ توسیع کے ساتھ یہ تقسیم تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔
اس خبر میں بیان کردہ قلمدان سرکاری نوٹیفکیشن اور ڈان کی رپورٹ کے مطابق ہیں۔ آئندہ ضمنی یا مقررہ انتخابات، کابینہ میں توسیع یا نئے نوٹیفکیشن کے بعد محکموں کی ذمہ داریاں دوبارہ تقسیم ہو سکتی ہیں۔




