اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ 3 سے 5 ستمبر 2026 کے دوران خیبرپختونخوا میں متعدد سکیورٹی کارروائیوں اور جھڑپوں میں 20 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ تفصیلات آئی ایس پی آر کے بیان میں جاری کی گئیں، جن میں شمالی وزیرستان، کوہاٹ اور دیگر علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں پاکستان افغانستان سرحد کے قریب ایک کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا پتا چلایا اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد سات دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ بیان میں اس سے پہلے 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب پیش آنے والے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں حکام کے مطابق سرحد پار سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 15 افراد پہلے مارے گئے تھے اور بعد میں اسی علاقے میں موجود مزید 10 افراد کو ہلاک کیا گیا، یوں اس مخصوص واقعے میں مجموعی تعداد 25 بتائی گئی۔

آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ کوہاٹ اور ڈیرا اسماعیل خیل کے علاقوں میں دو الگ کارروائیوں کے دوران مزید چار دہشت گرد مارے گئے۔ فوج کے بیان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک جنگجوؤں کے لیے ریاست کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح کا ذکر کیا گیا اور یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بعض حملہ آور بیرونی سرپرستی میں سرگرم تھے۔ اس نوعیت کے الزامات آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق شدہ نہیں تھے، اس لیے انہیں فوجی بیان سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر نے افغانستان کی طالبان حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے اور سرحدی انتظام مؤثر بنانے میں ناکام رہی ہے۔ افغان حکام کا فوری ردعمل ڈان کی رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔ پاکستان ماضی میں بھی کابل سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ سرحد پار محفوظ ٹھکانوں اور دراندازی کے خلاف کارروائی کی جائے، جبکہ افغان طالبان ایسے بعض الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

فوجی بیان کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہیں تاکہ کسی ممکنہ باقی ماندہ مسلح عنصر کو تلاش کیا جا سکے۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کو ریاستی ترجیح قرار دیا۔

یہ خبر بنیادی طور پر آئی ایس پی آر کے سرکاری بیان اور اس کی رپورٹنگ پر مبنی ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد، مبینہ سرپرستی اور دراندازی سے متعلق تفصیلات سکیورٹی ادارے کے دعووں کے طور پر پیش کی جا رہی ہیں؛ آزادانہ میدانی تصدیق دستیاب نہیں تھی۔