کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے منشیات فروشی کے ایک مقدمے میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل کنندہ سخی داد کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے مقدمے کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مبینہ طور پر برآمد شدہ منشیات کی محفوظ تحویل اور کیمیکل لیبارٹری تک محفوظ منتقلی کے حوالے سے استغاثہ کے شواہد میں اہم خلا موجود تھا۔

مقدمے کے مطابق سیشن عدالت نے اگست 2025 میں سخی داد کو ایک کلوگرام سے زائد آئس، یعنی میتھ ایمفیٹامین، رکھنے کے الزام میں عمر قید سنائی تھی۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ مواد اگست 2024 میں موچکو تھانے کی حدود میں ملزم سے برآمد کیا گیا۔ سزا کے خلاف اپیل سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی، جہاں دو رکنی بینچ نے فریقین کے دلائل اور ٹرائل کورٹ کے ریکارڈ کا جائزہ لیا۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں نشاندہی کی کہ ضبط شدہ مواد 24 اگست کو قبضے میں لیا گیا تھا جبکہ اسے 26 اگست کو لیبارٹری میں جمع کرایا گیا۔ ریکارڈ میں 25 اگست کو تعطیل ہونے کا دعویٰ کیا گیا، مگر عدالت کے مطابق اس کی مناسب دستاویزی توثیق پیش نہیں کی گئی۔ مزید یہ کہ اصل رجسٹر XIX اور روڈ سرٹیفکیٹ بھی ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہیں کیے گئے، جبکہ تفتیشی افسر نے تسلیم کیا کہ مواد اسی روز کیمیکل تجزیہ کار کے پاس جمع نہیں کرایا گیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ جب ضبط شدہ منشیات کی محفوظ تحویل اور منتقلی کی زنجیر ٹوٹ جائے تو سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی، کیونکہ فوجداری مقدمے میں یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ جس مواد کا لیبارٹری میں تجزیہ ہوا وہی مواد تھا جو مبینہ طور پر ملزم سے برآمد کیا گیا تھا اور اس دوران اس میں ردوبدل کا امکان نہیں تھا۔

یہ فیصلہ ملزم کے خلاف ابتدائی الزام یا پولیس کی برآمدگی کے دعوے کی محض تکرار نہیں بلکہ شواہد کے قانونی معیار سے متعلق عدالتی نتیجہ ہے۔ ہائی کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی سزا ختم کر دی۔ فیصلے سے منشیات کے مقدمات میں چین آف کسٹڈی، دستاویزی ریکارڈ اور لیبارٹری تک بروقت منتقلی کی اہمیت ایک بار پھر واضح ہوئی ہے۔