مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن، ون ونڈو سروسز، شہری شکایات کے اندراج و نگرانی کے نظام اور آئی ٹی ایکسیلنس مراکز پر جاری کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ پیش رفت اے جے کے انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اجلاس میں سامنے آئی، جس کی صدارت وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی نے کی۔
اجلاس میں سیکریٹری آئی ٹی و اطلاعات محمد رشید حنیف نے جاری منصوبوں کی پیش رفت پر بریفنگ دی۔ ایکسپریس ٹریبیون اور اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کا مقصد شہریوں کے لیے سرکاری خدمات تک رسائی آسان کرنا، کاغذی کارروائی پر انحصار کم کرنا اور معمول کے امور کے لیے مختلف دفاتر کے بار بار چکر لگانے کی ضرورت گھٹانا ہے۔
لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے تحت ملکیت اور زمین سے متعلق معلومات کو زیادہ منظم ڈیجیٹل شکل میں لانے پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے سے ریکارڈ تک رسائی تیز ہونے اور کاغذی فائلوں پر انحصار کم ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم اجلاس کی دستیاب تفصیلات میں پورے آزاد کشمیر کے تمام اراضی ریکارڈ کی تکمیل کی کوئی حتمی تاریخ یا فیصد نہیں بتایا گیا، اس لیے اس پیش رفت کو جاری منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، مکمل شدہ نظام نہیں۔
ون ونڈو آپریشن کا مقصد مختلف سرکاری خدمات کو ایک ایسے مشترکہ نظام میں لانا ہے جہاں شہری ایک ہی پلیٹ فارم یا سہولت مرکز سے متعلقہ خدمات حاصل کر سکیں۔ اسی طرح مجوزہ کمپلینٹ سیل میں شکایت درج کرنے، اس کی پیش رفت ٹریک کرنے اور متعلقہ ادارے کی کارروائی کی نگرانی کے لیے ایک باقاعدہ طریقۂ کار بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیراعظم نے شکایات کے اندراج، مانیٹرنگ اور حل کے لیے مؤثر اور شفاف نظام تیار کرنے پر زور دیا۔
آئی ٹی ایکسیلنس مراکز کو نوجوانوں کی تکنیکی تربیت اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ سے جوڑا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان مراکز کے ذریعے ٹیکنالوجی تک رسائی اور روزگار سے متعلق مہارتیں بڑھانے میں مدد دی جا سکتی ہے۔ اجلاس میں پرنسپل سیکریٹری سردار عدنان خورشید، ڈپٹی سیکریٹری ملک حامد صدیق اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔
حکومت نے ان منصوبوں کو عوامی خدمت، شفافیت اور انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے وسیع پروگرام کا حصہ قرار دیا ہے۔ عملی نتائج کا اندازہ اس وقت زیادہ واضح ہوگا جب لینڈ ریکارڈ کی کوریج، ون ونڈو خدمات کے استعمال، شکایات کے حل کے وقت اور آئی ٹی مراکز سے مستفید ہونے والے افراد کے باقاعدہ اعدادوشمار سامنے آئیں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت منصوبوں کے جائزے اور متعلقہ اداروں کو تیز عمل درآمد کی ہدایات تک محدود ہے۔
