مینلو پارک: میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو صنعت بھر میں مشترکہ طور پر سست کرنے کی تجاویز سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی لیبارٹریوں کے پاس محفوظ نظام بنانے کے لیے پہلے ہی مضبوط تجارتی اور قانونی محرکات موجود ہیں۔ رائٹرز کے مطابق زکربرگ نے ایکس پر لکھا کہ ہر لیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کو محفوظ انداز میں تربیت دینے کے لیے مناسب رفتار اختیار کرے اور ضرورت کے مطابق انفرادی حفاظتی اقدامات کرے۔
ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا جب انتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈی نے جدید اے آئی صلاحیتوں، خصوصاً خود کو بہتر بنانے والے نظاموں، کی رفتار کم کرنے کے لیے صنعت سطح کے تعاون کی اپیل کی۔ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور ایکس اے آئی کے ایلون مسک نے بھی اموڈی کی اپیل کی حمایت کی تھی۔ زکربرگ کا موقف اس بحث میں مختلف سمت پیش کرتا ہے: ان کے مطابق کمپنیوں کو ایک دوسرے کے انتظار کے بجائے اپنے نظاموں کی حفاظت اور الائنمنٹ پر خود کارروائی کرنی چاہیے۔
زکربرگ نے کہا کہ اعتماد اور الائنمنٹ تیزی سے وہ خصوصیات بن رہی ہیں جو اے آئی ایجنٹس اور ماڈلز میں فرق پیدا کریں گی، اور جو لیب ان پر توجہ نہیں دے گی وہ مسابقت میں پیچھے رہ سکتی ہے۔ انہوں نے میٹا کے ’میوز‘ اے آئی ایجنٹ کی مثال دی جس کی ریلیز کمپنی نے سکیورٹی مضبوط کرنے کے لیے مؤخر کی تھی۔ ان کے مطابق میٹا نے دوسری کمپنیوں سے اجتماعی توقف کا مطالبہ کیے بغیر اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے آزاد ماہرین سے ماڈلز کی جانچ کو بھی صنعت کی اچھی روایت قرار دیا۔
اے آئی کی رفتار اور حفاظت پر امریکی صنعت اور حکام کے درمیان اختلاف بڑھ رہا ہے۔ فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے چیئرمین اینڈریو فرگوسن نے اے آئی کمپنیوں کی جانب سے ممکنہ اینٹی ٹرسٹ استثنا کی درخواستوں پر شکوک ظاہر کیے ہیں، جبکہ بعض محققین جدید ماڈلز کے ممکنہ خطرات کے باعث زیادہ مربوط حفاظتی اقدامات چاہتے ہیں۔ زکربرگ کا بیان اس بنیادی اختلاف کو نمایاں کرتا ہے کہ آیا اے آئی کے خطرات کے لیے مشترکہ صنعت سطح کی رفتار بندی ضروری ہے یا کمپنیوں کی انفرادی ذمہ داری، قانونی جواب دہی اور مسابقتی دباؤ کافی ہو سکتے ہیں۔
