اسٹراسبرگ: یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لاین نے کہا ہے کہ وہ دنیا کی بڑی فرنٹیئر مصنوعی ذہانت لیبارٹریوں کو جدید اے آئی کے ممکنہ خطرات اور حفاظتی اقدامات پر بات چیت کے لیے مدعو کریں گی۔ انہوں نے یہ اعلان یورپی پارلیمنٹ سے سالانہ خطاب کے دوران کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ یورپ نئے اے آئی قوانین کی بنیاد پر عالمی سطح پر محفوظ اور ذمہ دار ٹیکنالوجی کے طریقہ کار کی تشکیل میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق انتھروپک اور اوپن اے آئی ان نمایاں لیبارٹریوں میں شامل ہیں جو انتہائی طاقتور اور جدید اے آئی ماڈلز تیار کرتی ہیں۔ وان ڈیر لاین نے کہا کہ وہ مرکزی فرنٹیئر لیبز کے ساتھ اس بات پر تبادلہ خیال کریں گی کہ صنعت کی موجودہ کوششوں کو کس طرح سہارا دیا جا سکتا ہے اور جدید ترین صلاحیتوں کی ترقی کی رفتار کو ذمہ دارانہ انداز میں کیسے منظم کیا جائے۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کچھ محققین اور ٹیکنالوجی رہنما خود کو بہتر بنانے والے اے آئی نظاموں کے ممکنہ خطرات پر زیادہ سخت حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حالیہ بحث کو اس وقت مزید توجہ ملی جب محقق جیکب کاکسن نے انتھروپک سے استعفا دیا اور کمپنی کے ساتھ اپنے سابق ادارے اوپن اے آئی پر خود کو بہتر بنانے والی سپر انٹیلی جنس کی دوڑ میں غیر ذمہ دارانہ رفتار اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ یہ کاکسن کا الزام ہے اور دونوں کمپنیوں کی مجموعی حفاظتی پالیسیوں کے بارے میں آزادانہ حتمی نتیجہ نہیں۔ دوسری جانب صنعت کے بعض رہنما یہ دلیل دیتے ہیں کہ کمپنیوں کے پاس مسابقت، ذمہ داری اور صارفین کے اعتماد کی وجہ سے محفوظ نظام بنانے کی کافی ترغیب موجود ہے۔
یورپی یونین نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور خطرات سے متعلق جامع ضابطے اپنائے ہیں، جنہیں کمیشن عالمی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی بنیاد کے طور پر دیکھتا ہے۔ وان ڈیر لاین نے اسی خطاب میں 15 سال سے کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا پابندی کی تجویز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پلیٹ فارمز کو بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔ فرنٹیئر اے آئی لیبز کے ساتھ مجوزہ مذاکرات کا ایجنڈا اور تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی، مگر اعلان سے واضح ہے کہ یورپی کمیشن جدید اے آئی کی رفتار اور حفاظت پر براہ راست صنعت کے ساتھ رابطہ بڑھانا چاہتا ہے۔
