سڈنی: امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی انتھروپک نے آسٹریلیا میں اپنے پہلے ڈیٹا سینٹر لیز معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ رائٹرز نے معاملے سے واقف دو افراد کے حوالے سے یہ پیش رفت رپورٹ کی ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کی بڑی اے آئی کمپنیاں جدید ماڈلز کی تربیت اور صارفین کو خدمات فراہم کرنے کے لیے کمپیوٹنگ صلاحیت، بجلی اور ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

آسٹریلیا کے لیے یہ معاہدہ مقامی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع اور عالمی اے آئی کمپنیوں کو ملک میں کمپیوٹنگ سہولیات قائم کرنے کی جانب راغب کرنے کی کوششوں سے جڑا ہے۔ بڑے اے آئی ماڈلز کے لیے روایتی کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور پروسیسرز، تیز نیٹ ورکنگ اور مسلسل بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ڈیٹا سینٹرز کی جگہ، توانائی کی دستیابی اور گرڈ کی صلاحیت ٹیکنالوجی پالیسی اور سرمایہ کاری کے اہم موضوع بن چکے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ انتھروپک کا آسٹریلیا میں پہلا ایسا لیز معاہدہ ہے۔ معاہدے کی مکمل تجارتی شرائط، صلاحیت اور مالی حجم کی تمام تفصیلات فوری طور پر عام نہیں کی گئیں، اس لیے اسے کمپنی کے پورے علاقائی انفراسٹرکچر منصوبے کے حتمی پیمانے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ تاہم مقامی ڈیٹا سینٹر کا معاہدہ کمپنی کو آسٹریلیا اور وسیع ایشیا بحرالکاہل خطے میں خدمات کی فراہمی کے لیے اضافی انفراسٹرکچر فراہم کر سکتا ہے۔

اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے آسٹریلیا سمیت کئی ملکوں میں ڈیٹا سینٹرز کے معاشی فوائد کے ساتھ بجلی کی کھپت، گرڈ پر دباؤ اور ماحولیاتی اثرات سے متعلق بحث بھی تیز کی ہے۔ حکومتیں ایک طرف سرمایہ کاری اور اعلیٰ مہارت والے روزگار کو راغب کرنا چاہتی ہیں، دوسری طرف توانائی کی فراہمی اور مقامی انفراسٹرکچر کی ضروریات کو بھی متوازن کرنا پڑتا ہے۔ انتھروپک کا تازہ معاہدہ اس عالمی رجحان کا حصہ ہے جس میں بڑی اے آئی لیبارٹریاں کمپیوٹنگ وسائل کے لیے جغرافیائی طور پر متنوع ڈیٹا سینٹر نیٹ ورک قائم کر رہی ہیں۔