آزاد جموں و کشمیر حکومت نے کئی ہفتوں کی بندش کے بعد انٹرنیٹ خدمات کی مرحلہ وار بحالی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم راولاکوٹ اور سدھنوتی میں انٹرنیٹ بدستور معطل رہے گا۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ضلع وار شیڈول کے مطابق بعض علاقوں میں براڈبینڈ اور موبائل ڈیٹا مکمل طور پر بحال کیا جائے گا جبکہ کئی اضلاع میں رسائی صرف تعلیمی اداروں اور بینکوں تک محدود ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع نیلم، جس میں بالائی اور زیریں نیلم شامل ہیں، لیپہ ویلی اور ضلع حویلی میں براڈبینڈ اور سیلولر ڈیٹا خدمات مکمل طور پر بحال کی جائیں گی۔ بھمبر اور میرپور میں بھی براڈبینڈ سروس بحال ہوگی۔ مظفرآباد اور جہلم ویلی میں انٹرنیٹ کی رسائی فی الحال اسکولوں، کالجوں، جامعات اور بینکوں تک محدود رکھی گئی ہے۔
ضلع باغ میں صرف باغ اور دھیرکوٹ کی بلدیاتی حدود کے اندر تعلیمی اداروں اور بینکوں کو براڈبینڈ سہولت دی جائے گی۔ کوٹلی میں بھی بنیادی طور پر یہی انتظام ہوگا، تاہم سہنسہ، سرساوہ اور تتہ پانی میں خدمات بند رہیں گی۔ راولاکوٹ اور سدھنوتی کے اضلاع میں کسی قسم کی انٹرنیٹ بحالی کا اعلان نہیں کیا گیا اور وہاں موجودہ معطلی جاری رہے گی۔
آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات 5 جون کو امن و امان کی صورتحال اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے حکومتی فیصلے کے بعد معطل کی گئی تھیں۔ طویل بندش سے طلبہ، کاروباری ادارے، بینکنگ، آن لائن ادائیگیوں اور بیرون ملک رابطوں پر نمایاں اثر پڑا۔ بینکاری شعبے سے وابستہ افراد نے جزوی بحالی کو صارفین کے دباؤ میں کمی کے لیے اہم قرار دیا ہے، جبکہ عام شہریوں اور کاروباری حلقوں نے محدود رسائی پر مایوسی ظاہر کی ہے۔
سدھنوتی اور پونچھ کے علاقوں میں حالیہ امن مارچ کے شرکا نے بھی پورے آزاد کشمیر میں فوری انٹرنیٹ بحالی، سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے، تعلیمی سہولتوں کی بحالی اور اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت کا موجودہ فیصلہ مکمل بحالی کے بجائے سکیورٹی صورتحال کے مطابق مرحلہ وار رسائی کا ماڈل اختیار کرتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ راولاکوٹ، سدھنوتی اور دیگر محدود علاقوں میں مکمل سروس کب بحال ہوگی؛ اس کا انحصار حکومتی جائزے اور امن و امان کی صورتحال پر ہوگا۔




