خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران حکام کے مطابق دو مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ لکی مروت کے ضلعی پولیس افسر کے ترجمان قدرت اللہ خان نے بتایا کہ کارروائی لکی سٹی پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ایک پہاڑی علاقے میں مسلح افراد کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع پر کی گئی۔
پولیس کے بیان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے مشتبہ ٹھکانے کو گھیرے میں لیا تو فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقابلے کے دوران دو افراد مارے گئے۔ ان میں سے ایک کی شناخت مبشر کے نام سے کی گئی، جس کے بارے میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ وہ بم دھماکوں سمیت دہشت گردی سے متعلق مختلف مقدمات میں سی ٹی ڈی کو مطلوب تھا۔ دوسرے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت فوری طور پر نہیں ہو سکی۔
یہ تفصیلات پولیس کے سرکاری بیان پر مبنی ہیں اور واقعے کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں تھی۔ پولیس نے ہلاک افراد کے خلاف مقدمات، مطلوبگی کے عدالتی ریکارڈ یا جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والے سامان کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی۔ صوبائی پولیس سربراہ ذوالفقار حمید نے لکی مروت پولیس اور سی ٹی ڈی کی کارروائی کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
لکی مروت اور خیبر پختونخوا کے دیگر جنوبی اضلاع حالیہ عرصے میں پولیس، سکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات کے خلاف حملوں سے متاثر رہے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں صوبے کے غیر ضم شدہ اضلاع میں تشدد سے متعلق اموات جون کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھی تھیں۔ ایسے اعداد و شمار مختلف اقسام کے تشدد کو یکجا کرتے ہیں اور ہر واقعے کی نوعیت الگ ہوتی ہے۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی اس وسیع انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ ہے جس میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مخصوص مقامات کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ حکام نے فوری طور پر یہ نہیں بتایا کہ لکی مروت کی تازہ کارروائی کے بعد علاقے میں مزید سرچ آپریشن جاری ہے یا کسی دوسرے مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ہلاک افراد کی شناخت اور ان سے منسوب مقدمات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے پر واقعے کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔




