سندھ اسمبلی میں ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے قیام سے متعلق بحث شروع ہوگئی ہے، جس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے آئینی، تاریخی اور انتظامی پہلوؤں پر اپنے مؤقف پیش کیے۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ سندھ کی تقسیم قابل قبول نہیں اور صوبے کی علاقائی حدود یا حیثیت سے متعلق کوئی فیصلہ صرف آئینی طریقہ کار اور صوبائی اسمبلی کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔
بحث پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر اور رکن اسمبلی نثار کھوڑو کی تحریک التوا پر شروع ہوئی۔ تحریک میں ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے بارے میں جاری عوامی بحث، بالخصوص ایسی تجاویز جو سندھ کی موجودہ علاقائی حدود پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، کو ایوان میں زیر بحث لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے نسبتاً تحمل کے ساتھ اپنے مختلف مؤقف پیش کیے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی ماضی میں بھی صوبے کی تقسیم کے خلاف متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ کی علاقائی سالمیت سے متعلق فیصلہ کسی بیرونی فورم یا یکطرفہ انتظامی اقدام کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین صوبوں کی حدود میں تبدیلی کے لیے واضح پارلیمانی طریقہ کار فراہم کرتا ہے اور صوبائی اسمبلی اس عمل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے بحث میں انتظامی اکائیوں اور نئے صوبوں کے تصور کے حق میں دلائل دیے۔ رکن ریحان اکرم نے کہا کہ 1973 کا آئین نئے صوبوں کے قیام کا طریقہ فراہم کرتا ہے، جبکہ دیگر ایم کیو ایم ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ بہتر حکمرانی اور شہری خدمات کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی پر بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اضلاع اور ڈویژن بنانے سے صوبے کی شناخت ختم نہیں ہوتی، اس لیے انتظامی اصلاحات کو تقسیم کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔
پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے مؤقف میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کی موجودہ علاقائی وحدت کو ناقابل تقسیم سیاسی اصول کے طور پر پیش کر رہی ہے، جبکہ ایم کیو ایم کے ارکان انتظامی کارکردگی کے تناظر میں نئے یونٹس پر گفتگو چاہتے ہیں۔ بحث ابھی مکمل نہیں ہوئی اور مزید ارکان کو اظہار خیال کا موقع دیا جانا ہے۔ کسی نئے صوبے یا صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے آئین میں مقررہ پارلیمانی اور صوبائی منظوری کا عمل بہرحال لازم ہوگا۔




