الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عوام پاکستان پارٹی کی ڈی لسٹنگ کے خلاف دائر اپیل کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی اپیل پر سماعت کی، جس میں عباسی ذاتی طور پر پیش ہوئے۔
الیکشن کمیشن نے 7 اگست کو عوام پاکستان کو سیاسی جماعتوں کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ کمیشن نے یہ معاملہ اس بنیاد پر اٹھایا تھا کہ پارٹی نے مبینہ طور پر انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کا مطلوبہ ثبوت جمع نہیں کرایا۔ تازہ سماعت میں شاہد خاقان عباسی نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے 7 جنوری کو پارٹی کو 60 دن کے اندر انتخابات کرانے کی ہدایت کی تھی اور پارٹی نے مقررہ مدت میں عمل مکمل کر لیا تھا۔
عباسی کے مطابق نیشنل جنرل کونسل اور قومی عہدیداروں کے انتخابات 26 مارچ سے 2 اپریل کے درمیان ہوئے اور نتائج سمیت تفصیلی دستاویزات 6 اپریل کو الیکشن کمیشن میں جمع کرا دی گئی تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 12 ہزار 846 پارٹی ارکان نے اس عمل میں حصہ لیا اور انتخابات الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق جمہوری اور شفاف طریقے سے منعقد ہوئے۔ یہ پارٹی کا دعویٰ ہے جس پر کمیشن نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
شاہد خاقان عباسی نے یہ اعتراض بھی کیا کہ ڈی لسٹنگ کا حکم پارٹی کو سنے بغیر جاری کیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے انہیں کمیشن کے فیصلے کے خلاف دستیاب ریکارڈ جمع کرانے کی اجازت دی، جس پر عباسی نے مزید دستاویزات پیش کرنے کا کہا۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد بینچ نے فی الحال صرف اپیل کے قابل سماعت ہونے کے قانونی سوال پر فیصلہ محفوظ کیا ہے؛ پارٹی کی ڈی لسٹنگ ختم کرنے یا برقرار رکھنے کا حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
الیکشن ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتوں کے لیے انٹرا پارٹی انتخابات، پارٹی آئین، مالی تفصیلات اور رکنیت سے متعلق مخصوص قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔ قانون الیکشن کمیشن کو عدم تعمیل کی صورت میں نوٹس، جرمانے اور بعض حالات میں اندراج منسوخ کرنے کے اختیارات دیتا ہے۔ اسی اجلاس میں کمیشن نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے خلاف انٹرا پارٹی انتخابات، حسابات اور پارٹی آئین میں ترامیم سے متعلق تین مقدمات کی سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کر دی اور جماعت کو اعتراضات کے جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔




