آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم افتخار گیلانی نے بیوروکریسی کو حکومت کے 100 روزہ اصلاحاتی ایجنڈے پر تیزی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مظفرآباد میں وزیراعظم سیکریٹریٹ میں سرکاری سیکریٹریز کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کاغذ کے بجائے عملی طور پر عوام کو نظر آنی چاہیے۔

وزیراعظم نے نظام میں اصلاح، عام شہری کے لیے سرکاری خدمات آسان بنانے اور نئے معاشی و سماجی مواقع پیدا کرنے کو اولین ترجیحات قرار دیا۔ 100 روزہ پروگرام عموماً نئی حکومت کے ابتدائی قابل پیمائش اہداف طے کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کی کامیابی واضح منصوبوں اور ذمہ دار اداروں سے وابستہ ہوتی ہے۔

آزاد کشمیر کی انتظامیہ کو روزگار، بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، بلدیاتی خدمات اور مالی وسائل سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ سرکاری نظام میں فیصلوں کی رفتار اور جوابدہی بہتر کرنا ان شعبوں میں پالیسی کے نفاذ کو متاثر کر سکتا ہے۔

افتخار گیلانی نے سیکریٹریز سے محکموں کی کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل میں فعال کردار کی توقع ظاہر کی۔ تاہم اصلاحات کا مکمل دائرہ، ہر شعبے کے عددی اہداف اور 100 دن کے اختتام پر جانچ کا طریقہ الگ سرکاری دستاویزات سے واضح ہونا ضروری ہوگا۔

مختصر مدت کا ایجنڈا سیاسی سمت فراہم کر سکتا ہے، مگر ادارہ جاتی اصلاحات اکثر زیادہ طویل عرصہ لیتی ہیں۔ حکومت کے دعووں کا حقیقی جائزہ شہری خدمات کے وقت، ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، شکایات کے حل اور عوامی رسائی میں قابل پیمائش تبدیلی سے کیا جائے گا۔