قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی نے ملک میں مختلف شاہراہ اور موٹروے منصوبوں کی تعمیر میں تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے منصوبہ وار پیش رفت اور رکاوٹوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اجلاس میں سڑکوں کی دیکھ بھال، ٹول وصولی اور جاری تعمیراتی منصوبوں کے معیار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

قومی شاہراہیں پاکستان کی اندرونی تجارت، زرعی منڈیوں، بندرگاہوں اور بین الصوبائی سفر کے لیے بنیادی انفراسٹرکچر ہیں۔ تعمیر یا مرمت میں تاخیر سے سفر کا وقت اور ٹرانسپورٹ لاگت بڑھ سکتی ہے، جبکہ خراب سڑکیں حادثات اور گاڑیوں کے نقصان کا خطرہ بھی بڑھاتی ہیں۔

کمیٹی نے این ایچ اے سے مختلف منصوبوں کی تکمیل کی تاریخ، مالی پیش رفت اور تاخیر کی وجوہات واضح کرنے پر زور دیا۔ بڑے منصوبوں میں زمین کا حصول، فنڈنگ، ٹھیکوں کے تنازعات، ڈیزائن میں تبدیلی اور قیمتوں میں اضافہ عام رکاوٹیں ہو سکتی ہیں، مگر ہر منصوبے کی ذمہ داری الگ شواہد سے طے ہوتی ہے۔

ٹول وصولی پر نگرانی بھی اہم ہے کیونکہ صارفین سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک مقصد سڑکوں کی دیکھ بھال اور آپریشنل اخراجات پورے کرنا ہوتا ہے۔ اگر ٹول بڑھیں لیکن مینٹیننس معیار کم رہے تو عوامی جوابدہی کے سوال پیدا ہوتے ہیں۔

پارلیمانی کمیٹی کی کارروائی انتظامی نگرانی ہے، خود کوئی تعمیراتی حل نہیں۔ حقیقی بہتری کے لیے واضح ٹائم لائن، فنڈز کا بروقت اجرا، معیاری ٹھیکے اور آزاد انجینئرنگ نگرانی ضروری ہوگی۔ کمیٹی کی جانب سے تفصیلی جواب طلب کرنا منصوبوں کی تاخیر اور معیار کو پارلیمانی ریکارڈ پر لانے کا اہم قدم ہے۔