اسلام آباد: غذائیت اور صحت کے ماہرین نے پاکستان میں مسلسل غذائی قلت اور بچوں میں پست قدی کے بحران سے نمٹنے کے لیے صحت، خوراک، خاندانی منصوبہ بندی، پانی و صفائی، سماجی تحفظ اور آبادی کی پالیسیوں کو ایک مربوط قومی حکمت عملی میں جوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں ایکٹ فار نیوٹریشن کانفرنس کے شرکا نے خبردار کیا کہ بکھری ہوئی پالیسیاں اور غیر مستقل عملدرآمد مسئلے کی شدت کم کرنے میں رکاوٹ ہیں۔

وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا صدیقی نے غذائیت کو محض صحت کے اخراجات کے بجائے انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھنے کی تجویز دی اور غذائی قلت کی سالانہ معاشی لاگت تقریباً 17 ارب ڈالر بتائی۔ کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں پست قدی کی شرح بہت بلند ہے اور ماں کی صحت، حمل سے پہلے اور بعد کے حالات اور بچے کی زندگی کے پہلے ایک ہزار دن فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔

عالمی بینک کی سینئر ہیلتھ اسپیشلسٹ سارہ شہزاد نے انسانی سرمائے کے تناظر میں غذائیت کی اہمیت پر زور دیا اور بتایا کہ پست قدی کا قابل ذکر حصہ پیدائش سے پہلے ہی تشکیل پاتا ہے۔ آبادی سے متعلق ماہرین نے پاکستان کی 2.55 فیصد آبادی بڑھنے کی شرح کو خوراک، صحت، تعلیم اور دیگر عوامی خدمات پر اضافی دباؤ سے جوڑا۔ یہ اعداد کانفرنس میں پیش کیے گئے تخمینے ہیں اور مختلف قومی سرویز یا ادوار میں پیمائش کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں۔

شرکا نے صاف پانی، صفائی اور حفظان صحت کو غذائی مداخلت کا لازمی حصہ قرار دیا، کیونکہ آلودہ پانی اور بار بار انفیکشن مناسب خوراک کے باوجود بچوں کی نشوونما متاثر کر سکتے ہیں۔ کانفرنس کا مرکزی نتیجہ یہ تھا کہ غذائی قلت کو کسی ایک وزارت یا صوبے کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے کثیر شعبہ جاتی مالی اور انتظامی ترجیح بنایا جائے۔ یہ سفارشات پالیسی مطالبات ہیں؛ ان پر عملی پیش رفت کا اندازہ آئندہ بجٹ، صوبائی پروگراموں، صحت و صفائی کی سرمایہ کاری اور قابل پیمائش نتائج سے ہوگا۔