اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد کے زون تھری میں مارگلہ انکلیو ہاؤسنگ منصوبے کی رابطہ سڑک کے دونوں اطراف بڑے کمرشل علاقے کے قیام پر غور کر رہی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق زون تھری ایک محفوظ علاقہ ہے جہاں موجودہ قواعد کے تحت نجی زمین پر بھی نئی تعمیرات پر سخت پابندیاں ہیں، جس کے باعث مجوزہ تجارتی ترقی نے پالیسی میں یکسانیت سے متعلق سوالات پیدا کیے ہیں۔

سی ڈی اے اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی مشترکہ مارگلہ انکلیو اسکیم کُری کے علاقے میں بن رہی ہے۔ اس منصوبے کے لیے پارک روڈ سے ہاؤسنگ اسکیم تک تقریباً 3.8 کلومیٹر رابطہ سڑک تعمیر کی جا رہی ہے، جس کا ارتھ ورک بڑی حد تک مکمل بتایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس سڑک کو اسلام آباد کی آرٹیریل یا میجر روڈ کا درجہ دے دیا ہے اور وزارت داخلہ نے متعلقہ نوٹیفکیشن سرکاری گزٹ میں شائع کیا۔

رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے اب اسی سڑک کے اطراف کمرشل زون کے لیے قواعد مرتب کرنے کے امکانات دیکھ رہا ہے۔ اس کے برعکس زون تھری کے رہائشیوں کو چھوٹے گھروں کی تعمیر اور بعض صورتوں میں نئے بجلی کنکشن تک میں رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔ یہی تضاد ناقدین کے لیے بنیادی سوال ہے۔ تاہم اس مرحلے پر کمرشل منصوبہ ایک منصوبہ بندی اور ضابطہ سازی کا معاملہ ہے؛ اسے مکمل شدہ تعمیر یا حتمی منظور شدہ کمرشل اسکیم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

مارگلہ انکلیو سی ڈی اے کی زمین پر مشترکہ منصوبہ ہے جس میں دونوں اداروں کے حصص 55 اور 45 فیصد بتائے گئے ہیں، جبکہ ترقیاتی کام ڈی ایچ اے کر رہا ہے۔ پارک روڈ پر منصوبے سے متعلق انڈرپاس بھی زیر تعمیر ہے اور اس کی تکمیل میں تاخیر کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ آئندہ اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ سی ڈی اے بورڈ سڑک کے لیے کون سے ضوابط منظور کرتا ہے اور زون تھری کے تحفظاتی قواعد کے ساتھ مجوزہ تجارتی سرگرمیوں کی قانونی مطابقت کس طرح واضح کی جاتی ہے۔