لاہور: لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے جج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ 3 ستمبر 2026 کو تحریر کیے گئے استعفے میں انہوں نے صدر آصف علی زرداری کو آئین کے آرٹیکل 206 کے تحت اپنا فیصلہ آگاہ کیا۔ خط کی ایک نقل لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھی بھیجی گئی۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے خط میں کہا کہ عدالتی منصب پر گزارا گیا عرصہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا نہایت اہم اور اطمینان بخش دور رہا۔ ان کے مطابق طویل غور و فکر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ بطور قانون دان مزید علمی پیش رفت اور قانون کی حکمرانی و انصاف تک رسائی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے قانونی اسکالرشپ، پالیسی تحقیق اور تقابلی عدالتی طریقوں کی جانب جانا زیادہ موزوں ہوگا۔
استعفے میں انہوں نے بینچ کے سینئر ساتھیوں کی رہنمائی اور اپنے عدالتی عملے کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ آئین اور قانون کی حکمرانی سے مستقل وابستگی کے ساتھ منصب چھوڑ رہے ہیں۔ رپورٹ شدہ خط میں کسی سیاسی تنازع، زیرِ سماعت مقدمے، انتظامی اختلاف یا بیرونی دباؤ کو استعفے کی وجہ نہیں بتایا گیا؛ اس لیے ان کے فیصلے کی وضاحت انہی تحریری وجوہ تک محدود ہے جو انہوں نے خود بیان کیں۔
جسٹس راحیل کامران شیخ مئی 2021 سے لاہور ہائی کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ دستیاب پیشہ ورانہ معلومات کے مطابق وہ لندن اسکول آف اکنامکس کے فارغ التحصیل اور مڈل ٹیمپل کے بیرسٹر ہیں۔ عدلیہ میں تقرری سے پہلے ان کی قانونی مشق میں عوامی قانون، تجارتی قانون، ٹیکس اور انسانی حقوق کے معاملات شامل تھے۔
وہ 2016 سے 2020 تک پاکستان بار کونسل کے منتخب رکن بھی رہے اور کونسل کی انسانی حقوق کمیٹی کی سربراہی کی۔ ان کا وکالتی اور ادارہ جاتی تجربہ عدالتی تقرری سے پہلے بار کی نمائندگی، حقوق سے متعلق قانونی سوالات اور مختلف نوعیت کے آئینی و تجارتی مقدمات تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سینئر وکیل اکرم شیخ کے صاحبزادے ہیں۔
سرکاری عمرِ ملازمت کے حساب سے جسٹس راحیل کامران شیخ کی ریٹائرمنٹ 30 جنوری 2036 کو متوقع تھی، تاہم انہوں نے اس تاریخ سے تقریباً ایک دہائی پہلے منصب چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ استعفے کے بعد متعلقہ آئینی اور انتظامی کارروائی صدرِ مملکت اور عدالتی رجسٹری کے دائرۂ کار میں ہوگی۔
اس پیش رفت کا فوری اور تصدیق شدہ نتیجہ یہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی منظور شدہ عدالتی قوت میں ایک نشست خالی ہوگی۔ اس نشست کو پُر کرنے کا آئندہ عمل متعلقہ آئینی طریقۂ کار کے مطابق ہوگا، جبکہ جسٹس راحیل کامران شیخ کی اگلی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کی تفصیل ان کے باضابطہ اعلان سے واضح ہوگی۔




