اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے میڈیا کارکنوں کی تنخواہوں اور دیگر مالی واجبات کی مسلسل تاخیر پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو بقایا ادائیگیاں بلا تاخیر کلیئر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایم این اے پلین بلوچ کی صدارت میں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے اجلاس میں ارکان نے کہا کہ سرکاری اداروں کی واجب الادا رقوم کے باعث میڈیا ملازمین کو مالی نقصان نہیں اٹھانا چاہیے۔

کمیٹی نے میڈیا اداروں کے ذمے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر واجبات کی جامع تفصیل طلب کی۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اداروں کو کی گئی سرکاری ادائیگیوں، باقی واجبات اور زیر التوا کلیمز کی صورتحال پیش کرے۔ ارکان نے بروقت تنخواہ کی ادائیگی کو میڈیا اداروں کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کارکنوں کے مالی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔

اجلاس میں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے کراچی کے علاقے لانڈھی میں طویل عرصے سے زیر التوا شارٹ ویو ٹرانسمیٹر منصوبے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ یہ منصوبہ 2006-07 کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں منظور ہوا تھا۔ کمیٹی نے اب تک کے اخراجات، باقی مالی ضرورت، تاخیر کی وجوہات اور تکمیل کی ٹائم لائن مانگی اور فنانس و پلاننگ ڈویژن کے حکام کو فنڈز جاری نہ ہونے کی وضاحت کے لیے طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

کمیٹی نے پیمرا کو مارننگ شوز کے لیے واضح ضابطہ اخلاق تیار کرنے کی ہدایت بھی کی، جس میں مواد، زبان، حساس موضوعات، مہمانوں کی شرکت اور ادارتی معیار کے رہنما اصول شامل ہوں۔ پیمرا سے ٹی وی چینلز کے زیر التوا واجبات کی تفصیل بھی طلب کی گئی۔ یہ کمیٹی کی پارلیمانی ہدایات ہیں؛ بقایا رقوم کی حقیقی ادائیگی اور ضابطہ اخلاق کے نفاذ کی تصدیق متعلقہ اداروں کی آئندہ کارروائی اور ریکارڈ سے ہوگی۔