اسلام آباد میں دو روزہ بین الاقوامی ’Act For Nutrition‘ کانفرنس کے اختتام پر ماہرین نے خوراک اور غذائی تحفظ کو بنیادی حقوق کے طور پر تسلیم کرنے اور پاکستان کے غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے صحت، زراعت، پانی، تعلیم، سماجی تحفظ اور معاشی پالیسی کو مربوط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کانفرنس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 40 فیصد سے زیادہ پست قدی، یعنی stunting، کا شکار ہیں۔ یہ حالت طویل مدتی غذائی کمی اور بار بار بیماری سے جڑی ہو سکتی ہے اور بچے کی جسمانی و ذہنی نشوونما، تعلیمی نتائج اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت پر اثر ڈالتی ہے۔

ماہرین نے زور دیا کہ غذائی قلت صرف خوراک کی مقدار کا مسئلہ نہیں۔ صاف پانی، صفائی، ماں کی صحت، بچوں کی نگہداشت، غربت، آبادی کا دباؤ اور معیاری خوراک تک رسائی ایک دوسرے سے جڑے عوامل ہیں۔ عالمی بینک کے نمائندوں نے بھی WASH، یعنی پانی، صفائی اور حفظان صحت، سے متعلق محرکات کو سمجھنے کی ضرورت بیان کی۔

کانفرنس میں یہ تخمینہ بھی زیر بحث آیا کہ غذائی قلت کے معاشی اثرات پاکستان کو سالانہ تقریباً 17 ارب ڈالر تک نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے تخمینے صحت، کم پیداواری صلاحیت اور انسانی سرمائے کے نقصانات کو معاشی قدر میں تبدیل کرتے ہیں اور ان میں طریقہ کار کے مطابق فرق ممکن ہے۔

خوراک کو بنیادی حق قرار دینے کی سفارش خود قانون نہیں بنتی۔ اس کے لیے آئینی، قانونی یا پالیسی اقدامات اور قابل نفاذ ذمہ داریاں درکار ہوں گی۔ کانفرنس کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ پاکستان کے غذائی بحران کو الگ الگ منصوبوں کے بجائے طویل مدتی قومی ترجیح بنایا جائے، جس میں قابل پیمائش اہداف، مسلسل بجٹ اور وفاقی و صوبائی جوابدہی شامل ہو۔