اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں حقیقی پیش رفت اس وقت ممکن ہوگی جب کابل پاکستانی سلامتی کے خدشات پر قابلِ تصدیق اور تحریری یقین دہانیاں فراہم کرے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغان حکام سرحد پار سرگرم مسلح گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کریں اور ان اقدامات کے نتائج عملی طور پر قابلِ جانچ ہوں۔ پاکستان کئی بار الزام لگا چکا ہے کہ بعض شدت پسند گروہ افغانستان میں پناہ گاہیں استعمال کرتے ہیں اور وہاں سے پاکستانی علاقوں میں حملوں یا دراندازی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

افغان طالبان حکام ماضی میں پاکستانی الزامات کو مسترد کرتے یا یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ دونوں جانب کے بیانات میں یہی اختلاف دو طرفہ تعلقات، سرحدی انتظام، تجارت اور سفارتی رابطوں پر مسلسل اثر انداز ہو رہا ہے۔

دفتر خارجہ کا تازہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغان سرحد سے دراندازی کی ایک کوشش ناکام بنانے اور 15 مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فوجی بیان میں بھی کابل سے سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ دہرایا گیا تھا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جغرافیہ، تجارت، مہاجرین اور سرحدی آمدورفت کے گہرے روابط موجود ہیں، اس لیے مسلسل کشیدگی دونوں ممالک کے لیے وسیع اثرات رکھتی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ سفارتی معمول کی بحالی اور اعتماد میں اضافہ صرف بیانات سے نہیں بلکہ ایسے اقدامات سے ہوگا جن کی تصدیق کی جا سکے۔ دوسری طرف کسی بھی الزام یا مخصوص گروہ کی موجودگی سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ جانچ اہم رہتی ہے، خصوصاً جب دونوں حکومتوں کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔