وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد کی نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں مہلک آتشزدگی کی انکوائری کے بعد آٹھ شناخت شدہ افراد کو معطل کرنے اور ان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈان اور وزارت اطلاعات کے مطابق انکوائری رپورٹ میں آگ سے بچاؤ، الارم، انخلا، برقی معائنے، سکیورٹی ردعمل اور ریکارڈ رکھنے کے نظام میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
26 اگست کے واقعے میں 14 نومولود بچے جان سے گئے، جبکہ نرس رضیہ نورین نے آگ میں داخل ہو کر ایک بچے کو باہر نکالا جو واحد زندہ بچ جانے والا نومولود بتایا گیا۔ وزیراعظم نے رضیہ نورین کے لیے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے نقد انعام کی منظوری دی۔ سرکاری بیان میں ان کے اقدام کو غیر معمولی بہادری اور فرض شناسی قرار دیا گیا۔
انکوائری رپورٹ نے بعض ممکنہ فوجداری پہلوؤں کی نشاندہی کی، جن میں مبینہ طور پر بند یا رکاوٹ والے ہنگامی راستے، پہلے سے معلوم فائر سیفٹی خطرات پر مناسب عمل نہ ہونا اور ایمرجنسی اطلاع میں تاخیر شامل ہیں۔ تاہم رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی فرد کی حتمی فوجداری ذمہ داری ثابت کرنے کے لیے قابل سزا فعل یا غفلت کا قانونی ثبوت درکار ہوگا اور دستیاب مواد اس مرحلے پر حتمی شخصی ذمہ داری طے کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اس لیے معطلی اور تحقیقات کو جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کا قطعی تکنیکی سبب ابھی حتمی طور پر طے نہیں ہوا۔ ممکنہ برقی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی نتیجہ فارنزک جانچ سے مشروط ہے۔ سی سی ٹی وی اور ایمرجنسی ردعمل کے ریکارڈ سے یہ سوال بھی اٹھا کہ نرسری میں حالات کتنی تیزی سے خراب ہوئے اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دینے میں کتنا وقت لگا۔
وزیراعظم نے انکوائری رپورٹ عام کرنے، ذمہ داری کے تعین کے لیے مزید تحقیقات اور انتظامی خالی آسامیوں پر فوری تقرری کی ہدایات بھی دیں۔ واقعہ پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی انخلا، برقی نظام اور تربیت کی جانچ کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔ آئندہ فوجداری کارروائی میں ہر نامزد شخص کے خلاف شواہد، انفرادی ذمہ داری اور قانونی دفاع الگ جانچا جائے گا، جبکہ آگ کے اصل سبب کے بارے میں فارنزک نتیجہ اہم ثبوت ہوگا۔




