اسلام آباد/ٹیکسلا: پاکستان نے یونیسکو سے خیبر پختونخوا کے آثار قدیمہ مقام رانی گٹ اور سندھ کی تاریخی بندرگاہ بھنبھور کو عالمی ورثہ فہرست میں شامل کرانے کے عمل میں معاونت کی درخواست کی ہے۔ یہ معاملہ پاکستان میں یونیسکو کے نمائندے فواد پاشایف اور وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی کی ملاقات میں زیر بحث آیا۔

یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سینٹر کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان کی عارضی فہرست میں 37 مقامات شامل ہیں، جن میں رانی گٹ اور پورٹ آف بھنبھور بھی موجود ہیں۔ عارضی فہرست میں ہونا کسی مقام کی حتمی عالمی ورثہ حیثیت نہیں ہوتا؛ مکمل نامزدگی، تکنیکی جائزے اور عالمی ورثہ کمیٹی کے فیصلے سمیت کئی مراحل کے بعد ہی کسی مقام کو باقاعدہ فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔

ملاقات میں بتایا گیا کہ عالمی ورثہ کمیٹی کا ایک دورہ 6 سے 11 ستمبر کے دوران بھنبھور کے لیے متوقع ہے۔ اس قسم کے جائزے تاریخی مقام کی حالت، تحفظ کے انتظام، دستاویزات اور عالمی اہمیت کے دعوے کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھنبھور کی تاریخی بندرگاہ اور رانی گٹ کے گندھارا آثار ثقافتی سیاحت اور آثار قدیمہ کے تحفظ دونوں حوالوں سے اہم ہیں۔

وفاقی وزیر نے یونیسکو سے پاکستانی کھانوں اور پکوانی روایات کو غیر مادی ثقافتی ورثے کے فریم ورک میں شامل کرنے کے لیے بھی تعاون مانگا۔ تجویز میں پنجاب کی مکئی کی روٹی اور ساگ، بلوچی سجی، سندھی بریانی اور خیبر پختونخوا کی چپلی کباب کی روایت شامل ہے۔ غیر مادی ثقافتی ورثہ کی فہرست مادی عمارتوں کے بجائے زندہ ثقافتی روایات، مہارتوں اور سماجی طریقوں کے تحفظ سے متعلق ہوتی ہے۔

گندھارا ورثے کے حوالے سے وزیراعظم ٹاسک فورس کے کوآرڈینیٹر عمران شوکت نے بیرون ملک نمائشوں کو وسعت دینے اور ’گندھارا کارنرز‘ قائم کرنے کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ منتخب مقامات کے آس پاس تحقیق اور مراقبہ مراکز کے لیے زمین مختص کرنے کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ بدھ مت ورثے سے متعلق علمی اور مذہبی سیاحت کو سہولت دی جا سکے۔

پاکستان کی درخواست کو ابھی یونیسکو کی حتمی منظوری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عالمی ورثہ یا غیر مادی ثقافتی ورثہ میں شمولیت الگ الگ ضابطہ جاتی اور تکنیکی عمل سے گزرتی ہے۔ موجودہ پیش رفت یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے دونوں تاریخی مقامات اور منتخب پکوانی روایات کے لیے بین الاقوامی ادارے کی معاونت باضابطہ طور پر طلب کی ہے۔