لاہور: لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے جج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ 3 ستمبر 2026 کو صدر آصف علی زرداری کے نام بھیجے گئے خط میں انہوں نے آئین کے آرٹیکل 206 کے تحت اپنا استعفیٰ فوری اثر سے پیش کیا۔ خط کی ایک نقل لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھی بھیجی گئی۔
استعفے میں جسٹس راحیل کامران شیخ نے لکھا کہ عدالتی منصب پر خدمت اور اپنے حلف و ضمیر کے مطابق نظامِ انصاف میں حصہ ڈالنا ان کے لیے اعزاز اور باعثِ فخر رہا۔ انہوں نے بینچ پر گزارے برسوں کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا نہایت تعمیری اور اطمینان بخش دور قرار دیا اور سینئر و ساتھی ججوں کی رہنمائی اور عدالتی عملے کی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔
ان کے بیان کردہ سبب کے مطابق طویل اور گہرے غور کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ بطور قانون دان مزید پیشہ ورانہ نشوونما اور قانون کی حکمرانی و انصاف تک رسائی میں مؤثر کردار کے لیے قانونی علمی کام، پالیسی تحقیق اور تقابلی عدالتی طریقوں سے وسیع وابستگی زیادہ موزوں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئین اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ مستقل وابستگی کے ساتھ بینچ چھوڑ رہے ہیں۔
دستیاب استعفے میں کسی عدالتی مقدمے، ساتھی جج، انتظامی فیصلے، سیاسی دباؤ، آئینی ترمیم یا تادیبی کارروائی کو استعفے کی وجہ نہیں بنایا گیا۔ اس لیے ان کے فیصلے کو کسی غیر مذکور تنازع یا الزام سے جوڑنا قیاس ہو گا۔ معتبر رپورٹس نے وجہ وہی بیان کی ہے جو خط میں درج ہے: قانونی تحقیق، پالیسی مطالعہ اور تقابلی عدالتی عمل کی جانب پیشہ ورانہ پیش رفت۔
آرٹیکل 206 سپریم کورٹ یا کسی ہائی کورٹ کے جج کو اپنے دستخط سے صدر کے نام تحریر بھیج کر منصب سے استعفیٰ دینے کا آئینی راستہ فراہم کرتا ہے۔ جسٹس شیخ نے اسی شق کا حوالہ دیا اور خط میں فوری اثر کی عبارت استعمال کی۔ یہ رضاکارانہ استعفیٰ ہے؛ اسے لازمی ریٹائرمنٹ، عہدے سے برطرفی یا کسی ادارے کی جانب سے بدعنوانی یا مس کنڈکٹ کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔
جسٹس راحیل کامران شیخ کو 7 مئی 2021 کو لاہور ہائی کورٹ کا اضافی جج مقرر کیا گیا تھا۔ عدالتی پروفائل اور پاکستانی خبر رساں اداروں کے مطابق ان کی معمول کی ریٹائرمنٹ 30 جنوری 2036 کو متوقع تھی، اس لیے انہوں نے مقررہ عمر مکمل ہونے سے تقریباً ایک دہائی پہلے منصب چھوڑا۔ ان کا عدالتی دور پانچ برس سے کچھ زیادہ عرصے پر محیط رہا۔
وہ لندن اسکول آف اکنامکس سے قانون کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور مڈل ٹیمپل کے بیرسٹر ہیں۔ عدالتی تقرری سے پہلے ان کی وکالت میں آئینی و انتظامی قانون، تجارتی معاملات، ٹیکس، ریگولیٹری امور، انسانی حقوق اور وائٹ کالر جرائم کے شعبے شامل تھے۔ وہ ستمبر 2012 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے اور 2016 سے 2020 تک پاکستان بار کونسل کے منتخب رکن رہے۔
پاکستان بار کونسل میں انہوں نے انسانی حقوق کمیٹی کی سربراہی اور ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت سمیت ذمہ داریاں انجام دیں۔ یہ پس منظر ان کے استعفے میں بیان کردہ قانونی علمی اور پالیسی تحقیق کے آئندہ ارادے سے متعلق ہے، تاہم انہوں نے کسی مخصوص یونیورسٹی، تحقیقی ادارے، نئی ملازمت یا عملی پروگرام کا اعلان نہیں کیا۔
استعفے کے بعد عدالتی انتظامیہ میں ان کے نام سے منسلک بینچ اور مقدمات کی فہرست معمول کے ادارہ جاتی طریقۂ کار کے تحت دوبارہ ترتیب پائے گی۔ خبر کے دستیاب وقت تک کسی جانشین کی نامزدگی یا خالی آسامی پُر کرنے کے عمل کی الگ تفصیل جاری نہیں ہوئی تھی۔ ججوں کی نئی تقرری آئینی اداروں کے مقررہ عمل سے ہوتی ہے اور وہ استعفے کے خط کا حصہ نہیں۔




