اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں آتشزدگی کے دوران ایک نومولود بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کے لیے ستارۂ خدمت اور ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے ان سے ملاقات کے دوران ان کی بہادری اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو سراہا اور مالی انعام کا چیک پیش کیا۔
پمز کے مادر و طفل شعبے میں ہونے والی آگ ایک سنگین سانحہ ثابت ہوئی تھی جس میں متعدد نومولود جان سے گئے۔ دستیاب ویڈیو اور عینی تفصیلات کے مطابق رضیہ نورین نے آگ اور دھوئیں کے دوران نرسری میں داخل ہو کر ایک بچے کو باہر نکالا۔ ان کی کوشش کے باوجود شدید آگ کے باعث مزید بچوں تک پہنچنا ممکن نہ رہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ رضیہ نورین کو 23 مارچ 2027 کو ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں ستارۂ خدمت دیا جائے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت پمز آتشزدگی کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے الگ تحقیقاتی اور قانونی کارروائی بھی کر رہی ہے۔
رضیہ نورین نے اپنی کارروائی کو پیشہ ورانہ فرض اور بچوں سے وابستگی سے جوڑا ہے۔ ان کی بہادری کو سراہنے کے ساتھ یہ واقعہ اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ہنگامی انخلا اور حساس وارڈز کے حفاظتی نظام کی اہمیت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
حکومت نے واقعے کے بعد پمز کے انتظامی اور حفاظتی نظام کا جائزہ لینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ایک جانب نرس کی انفرادی بہادری کو قومی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے، دوسری جانب سانحے کی ادارہ جاتی وجوہات اور ممکنہ غفلت کی تحقیقات جاری ہیں۔ دونوں پہلو الگ ہیں: اعزاز ایک امدادی اقدام کی غیر معمولی جرات کا اعتراف ہے، جبکہ آتشزدگی کی ذمہ داری کا حتمی تعین تحقیق اور قانونی عمل کے ذریعے ہونا ہے۔




