اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ہونے والی مہلک آتشزدگی کے سلسلے میں ذمہ دار قرار پانے والے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مقدمات کا اندراج آئندہ دو سے تین روز میں شروع ہونے کی توقع ہے اور کارروائی ہر فرد کے کردار کے مطابق الگ کی جائے گی۔
وزیر کے مطابق واقعے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ کے بعد پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت آٹھ افراد کو معطل کیا جا چکا ہے۔ حتمی کمیٹی رپورٹ دو روز میں متوقع بتائی گئی ہے، جبکہ محکمہ قانون اور پولیس بھی اس معاملے میں قانونی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت پمز کے مادر و طفل شعبے میں لگنے والی آگ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت نے ملک بھر میں شدید تشویش پیدا کی۔ حکومت نے واقعے کے فوری بعد تحقیقات کا حکم دیا تھا تاکہ آگ لگنے کی وجہ، حفاظتی انتظامات، ہنگامی ردعمل اور متعلقہ حکام کی ممکنہ غفلت کا تعین کیا جا سکے۔
اہم قانونی نکتہ یہ ہے کہ معطلی، تحقیقاتی سفارش اور فوجداری ذمہ داری الگ مراحل ہیں۔ کسی افسر یا ملازم کی معطلی بذاتِ خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں، جبکہ مقدمہ درج ہونے کے بعد بھی ذمہ داری کا حتمی تعین عدالتی عمل اور شواہد کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اس لیے حکومت کے اعلان کو مجوزہ قانونی کارروائی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کے خلاف حتمی عدالتی فیصلہ۔
واقعے نے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی، برقی نظام، ایمرجنسی اخراج اور مریضوں کے انخلا کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ حکومت نے پمز میں حفاظتی نظام بہتر بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حتمی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ کن انتظامی یا تکنیکی خامیوں کو واقعے کا سبب یا شدت بڑھانے والا عامل قرار دیا گیا اور کن افراد کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی تجویز کی جاتی ہے۔




