مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم سید افتخار علی گیلانی نے آٹھ ارکان پر مشتمل اپنی ابتدائی کابینہ تشکیل دے دی ہے۔ نئے وزرا نے 4 ستمبر کو ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب میں حلف اٹھایا، جہاں قائم مقام صدر چوہدری طارق فاروق نے ان سے حلف لیا۔ وزیراعظم گیلانی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے علاقائی صدر شاہ غلام قادر بھی تقریب میں موجود تھے۔
ڈان کے مطابق کابینہ میں سات براہِ راست منتخب ارکان اور بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کے لیے مخصوص نشست سے منتخب ایک رکن شامل کیا گیا ہے۔ وزرا میں مظفرآباد سے راجہ ثاقب مجید اور ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی، باغ سے سردار میر اکبر، کوٹلی سے راجہ ریاست، راجہ عمیر نعیم اور چوہدری عبدالرحمان آرائیں، بھمبر سے وقار نور اور میرپور سے چوہدری اظہر صادق شامل ہیں۔
چوہدری عبدالرحمان آرائیں برمنگھم میں مقیم کاروباری شخصیت ہیں اور بیرونِ ملک کشمیریوں کی مخصوص نشست سے اسمبلی پہنچے۔ آٹھ وزرا میں ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی، وقار نور، سردار میر اکبر اور چوہدری اظہر صادق پہلے بھی وزارت کے عہدے پر کام کر چکے ہیں، جبکہ باقی ارکان پہلی مرتبہ کابینہ میں شامل ہوئے ہیں۔
حلف برداری کے فوراً بعد وزرا کے قلم دان جاری نہیں کیے گئے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کے برخلاف کسی مشیر یا معاونِ خصوصی کی تقرری کا اعلان بھی سامنے نہیں آیا۔ اس لیے نئی کابینہ کی عملی ذمہ داریوں، محکموں کی تقسیم اور ممکنہ توسیع کی حتمی صورتِ حال آئندہ سرکاری نوٹیفکیشن سے واضح ہوگی۔
سینئر رکنِ اسمبلی نورین عارف، جو 2006، 2016 اور 2026 میں علاقائی حلقے سے براہِ راست منتخب ہونے والی واحد خاتون کے طور پر نمایاں ہیں اور مخصوص نشستوں پر بھی کئی ادوار گزار چکی ہیں، ابتدائی کابینہ میں شامل نہیں ہوئیں۔ پاکستان میں قائم مہاجر حلقوں سے منتخب مسلم لیگ نواز کے نو ارکان میں سے بھی کسی کو وزارت نہیں دی گئی، جبکہ دسویں مہاجر رکن پہلے ہی قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہو چکے ہیں۔ یہ ابتدائی کابینہ کی موجودہ ترکیب ہے؛ بعد کی توسیع یا ردوبدل کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔
افتخار گیلانی نے 28 اگست کو آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔ ان کی نامزدگی پر مسلم لیگ نواز کے اندر بعض تحفظات سامنے آئے تھے اور علاقائی صدر شاہ غلام قادر نے ابتدا میں ان کے انتخاب اور حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کی تھی، تاہم وہ نئی کابینہ کی حلف برداری میں موجود رہے۔ اس سیاسی پس منظر کے باوجود تازہ واقعہ کابینہ کی باضابطہ تشکیل اور وزرا کے حلف تک محدود ہے۔
حالیہ براہِ راست انتخابات میں مسلم لیگ نواز نے 38 علاقائی حلقوں میں سے 25 نشستیں حاصل کیں، پاکستان پیپلز پارٹی نے 12 نشستیں جیتیں، جبکہ عوامی دست و بازو پارٹی کا واحد منتخب رکن مسلم لیگ نواز کے ساتھ شامل ہوا۔ نئی حکومت کی پارلیمانی بنیاد اسی انتخابی نتیجے پر قائم ہے۔
آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے میں ماضی میں کابینہ کے حجم پر حد بھی نافذ رہی ہے۔ 2018 کی تیرہویں آئینی ترمیم نے کابینہ کو اسمبلی کی مجموعی تعداد کے 30 فیصد، یعنی 16 وزرا، تک محدود کیا تھا، مگر جون 2023 میں یہ حد ختم کر دی گئی۔ سابقہ حکومتوں میں نسبتاً بڑی کابینائیں بھی قائم ہوئیں، جبکہ افتخار گیلانی نے ابتدائی طور پر آٹھ رکنی ٹیم منتخب کی ہے۔
نئی کابینہ کے سامنے انتظامی ترجیحات اور حکومت کے اعلان کردہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کی ذمہ داری ہوگی، لیکن ہر وزیر کا دائرۂ کار قلم دان مختص ہونے کے بعد ہی معلوم ہوگا۔ تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ آٹھ وزرا نے حلف اٹھا لیا ہے؛ محکموں، مشیروں اور آئندہ ممکنہ توسیع سے متعلق معلومات سرکاری اعلامیے کی منتظر ہیں۔




