راولپنڈی/کراچی: پاکستان کی انسداد منشیات فورس، اے این ایف، نے کہا ہے کہ کراچی اور سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کی بندرگاہوں پر مربوط کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 671 کلو گرام میتھ ایمفیٹامین، جسے عام طور پر آئس کہا جاتا ہے، ضبط کی گئی۔ فورس نے اس کھیپ کو افغانستان سے منسلک ایک بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک سے جوڑا ہے۔ نیٹ ورک کی ساخت، منشیات کی اصل اور ملزمان کے کردار سے متعلق یہ نسبت اے این ایف کے بیان پر مبنی ہے اور حتمی مجرمانہ ذمہ داری عدالتی کارروائی میں طے ہو گی۔
اے این ایف کے مطابق پہلی کارروائی قابل عمل خفیہ معلومات کی بنیاد پر کراچی پورٹ پر کی گئی، جہاں ایک کنٹینر میں چھپائی گئی 200 کلو گرام مبینہ میتھ ایمفیٹامین برآمد ہوئی۔ فورس نے افغان شہری احسان اللہ کو گرفتار کیا اور اسے مبینہ نیٹ ورک کا مرکزی منتظم یا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ اے این ایف کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ بعض مقامی سہولت کار بھی حراست میں لیے گئے، تاہم جاری بیانات میں تمام گرفتار افراد کی تعداد، ان کے خلاف درج مقدمے کی مکمل دفعات یا عدالت میں فرد جرم کی تفصیل نہیں دی گئی۔
کسی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کسی شخص کو ماسٹر مائنڈ یا سہولت کار کہنا الزام اور تفتیشی مؤقف ہوتا ہے، سزا یافتہ نتیجہ نہیں۔ گرفتار افراد کو قانون کے تحت دفاع اور منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہے۔ دستیاب رپورٹوں میں ملزمان کا مؤقف یا ان کے وکلا کا جواب سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح ضبط شدہ مواد کو حکام نے میتھ ایمفیٹامین بتایا ہے، جبکہ لیبارٹری جانچ کی الگ عوامی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔
فورس کا کہنا ہے کہ احسان اللہ سے تفتیش کے دوران حاصل ہونے والی معلومات سری لنکن حکام اور امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن، ڈی ای اے، کے ساتھ شیئر کی گئیں۔ اس اطلاع کے بعد کولمبو پورٹ پر مشترکہ کارروائی ہوئی اور تولیوں میں چھپائی گئی مزید 471 کلو گرام میتھ ایمفیٹامین برآمد کی گئی۔ یوں کراچی کی 200 کلو اور کولمبو کی 471 کلو کھیپ ملا کر مجموعی مقدار 671 کلو گرام بنتی ہے۔
کولمبو میں امریکی سفارت خانے سے منسوب بیان میں ضبط شدہ منشیات کی اندازاً مالیت 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بتائی گئی اور کہا گیا کہ کھیپ سری لنکا کے راستے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچائی جانی تھی۔ منشیات کی غیر قانونی بازار میں قیمت مقام، معیار اور تخمینے کے طریقے سے بدل سکتی ہے، اس لیے اس رقم کو عدالتی طور پر ثابت شدہ مالی قدر کے بجائے حکام کا تخمینہ سمجھا جانا چاہیے۔
اے این ایف نے دعویٰ کیا کہ یہ گروہ افغانستان سے آنے والی منشیات کو پاکستانی سرزمین سے عبوری راستے کے طور پر استعمال کرکے بیرون ملک منتقل کرنا چاہتا تھا۔ فورس نے پاکستان کو افغان نژاد منشیات کے لیے عبوری راستہ ہونے کے ساتھ ایک متاثرہ ملک بھی قرار دیا۔ افغانستان کی موجودہ حکومت ماضی میں وہاں مصنوعی منشیات کی پیداوار بڑھنے سے متعلق پاکستانی الزامات مسترد کرتی رہی ہے؛ اس مخصوص ضبطی اور اے این ایف کی نسبت پر کابل کا فوری الگ ردعمل رپورٹ نہیں ہوا۔
پاکستانی ادارے نے بین الاقوامی رابطے کو کارروائی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معلومات بروقت منتقل کرنے سے کولمبو میں کھیپ پکڑی گئی۔ اے این ایف کے مطابق سری لنکن حکام اور امریکی ڈی ای اے نے پاکستانی فورس کے کردار کو تسلیم کیا۔ اس دعوے کی مکمل سرکاری خط و کتابت جاری نہیں کی گئی، البتہ سری لنکا اور امریکی حکام کی جانب سے کولمبو آپریشن اور بڑی مقدار میں کرسٹل میتھ کی ضبطی کی تصدیق رپورٹ ہوئی ہے۔
دونوں بندرگاہی کارروائیوں کے بعد تفتیش کا اگلا مرحلہ کھیپ کے مالک، بھیجنے والے اور وصول کنندہ، کنٹینر کی دستاویزات، مالی لین دین، کسٹمز کلیئرنس میں ممکنہ سہولت کاری اور نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی شناخت ہو گا۔ موجودہ اعلان میں ضبطی اور گرفتاری کی اطلاع ہے؛ کسی ملزم کے خلاف فرد جرم، ٹرائل یا سزا کا حتمی نتیجہ نہیں بتایا گیا۔
یہ کیس بندرگاہوں پر خطرے کی بنیاد پر معائنہ، بین الاقوامی انٹیلی جنس شیئرنگ اور کنٹینر ٹریکنگ کی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔ تاہم آپریشن کی کامیابی کا مکمل قانونی نتیجہ اس وقت سامنے آئے گا جب شواہد عدالت میں پیش ہوں، ملزمان کا مؤقف سنا جائے اور متعلقہ پاکستانی و سری لنکن مقدمات میں فیصلے ہوں۔




