لاہور: ضلعی انتظامیہ نے بسنت 2027 کے لیے پتنگیں اور متعلقہ سامان تیار کرنے والے مینوفیکچررز کی رجسٹریشن 5 ستمبر سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر ریٹائرڈ کیپٹن محمد علی اعجاز کے مطابق پیداوار شروع کرنے سے پہلے بسنت پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن اور باقاعدہ عدم اعتراض سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ عمل آئندہ میلے سے کئی ماہ پہلے شروع کرنے کا مقصد مینوفیکچرنگ کو قابل شناخت بنانا، محفوظ سامان کی دستیابی یقینی بنانا اور ممنوعہ ڈور و غیر منظور شدہ پتنگوں کی تیاری روکنا ہے۔
ڈان کے مطابق بسنت 2027 لاہور میں 12 سے 14 مارچ تک منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ فی الحال کھولی جانے والی رجسٹریشن صرف پتنگوں اور متعلقہ منظور شدہ سامان کے مینوفیکچررز کے لیے ہے۔ پتنگ فروشوں، تاجروں اور تنظیموں کے لیے الگ رجسٹریشن جنوری یا فروری میں متوقع ہے، مگر اس کی حتمی تاریخ بعد میں جاری کی جائے گی۔ اس لیے موجودہ اعلان کو تمام کاروباری فریقوں کے لیے مکمل اجازت یا میلے کے انتظامات کی آخری منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔
ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ صرف مقررہ سائز کی پتنگیں، روایتی ’’پِنّا‘‘ اور خالص سوتی دھاگا استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ کیمیکل یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور، دھاتی تار اور دیگر خطرناک مواد کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ خصوصی ٹیمیں مینوفیکچرنگ مقامات کا معائنہ کریں گی اور پیداوار کی نگرانی کریں گی تاکہ غیر منظور شدہ سامان بازار تک نہ پہنچ سکے۔ این او سی کا اجرا خودکار طور پر ہر درخواست کی منظوری نہیں ہوگا؛ درخواست گزاروں کو مقررہ قانونی اور حفاظتی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
سرکاری بسنت پورٹل پر مینوفیکچرر، تاجر، پتنگ فروش اور پتنگ بازی کی تنظیم کے لیے الگ رجسٹریشن زمروں کی گنجائش دکھائی گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق پیشگی اندراج سے خام مال، تیار مصنوعات اور فروخت کی زنجیر کا ریکارڈ رکھنے میں مدد ملے گی۔ تاہم نئی رجسٹریشن سے عام شہریوں کو کسی بھی وقت یا کسی بھی مقام پر پتنگ بازی کی کھلی اجازت نہیں ملتی۔ پتنگ بازی صرف اعلان کردہ تاریخوں، حدود اور حفاظتی ضابطوں کے تحت ہی ہو سکے گی۔
لاہور میں بسنت فروری 2026 میں طویل وقفے کے بعد محدود اور سخت ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت واپس آئی تھی۔ اس انتظام میں محفوظ شہر کے کیمروں اور ڈرونز سے نگرانی، چھتوں کے معائنے، ریسکیو 1122 اور بجلی کی کمپنی کے ساتھ رابطہ، موٹر سائیکلوں کے لیے حفاظتی اقدامات اور ممنوعہ ڈور کے خلاف کارروائی شامل تھی۔ پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت اجازت اور پابندیوں کا قانونی ڈھانچہ وضع کیا گیا تھا۔
بسنت کی بحالی کے ساتھ سب سے بڑا عوامی تحفظ کا مسئلہ خطرناک ڈور سے ہونے والی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات رہے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جلد رجسٹریشن سے مینوفیکچررز کی جانچ اور پیداوار کے مقامات کی نگرانی کے لیے زیادہ وقت ملے گا۔ اس نظام کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ این او سی کی شرائط، معائنوں، ممنوعہ مواد کی ضبطگی اور فروخت کی نگرانی کو کتنی مستقل مزاجی سے نافذ کیا جاتا ہے۔




