وفاقی حکومت نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پولیس کے انسپکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی کا تبادلہ کرتے ہوئے انہیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے، کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کر دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بی ایس-20 کے افسر علی ناصر رضوی کی نئی تعیناتی فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور مزید احکامات تک برقرار رہے گی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تقرری وفاقی حکومت کی منظوری سے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعہ 29(3)، جس میں 2025 کی ترمیم شامل ہے، اور سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی دفعہ 10 کے تحت کی گئی ہے۔ متعلقہ قانونی شق کے تحت حکومت این سی سی آئی اے کے سربراہ کو تین سال کی ایسی مدت کے لیے مقرر کر سکتی ہے جس میں توسیع نہیں کی جا سکتی۔

علی ناصر رضوی مارچ 2024 میں اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل مقرر ہوئے تھے۔ اس سے پہلے وہ پنجاب میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا تبادلہ ایسے وقت ہوا ہے جب سائبر جرائم، آن لائن فراڈ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال اور الیکٹرانک جرائم کی تحقیقات کے لیے این سی سی آئی اے کے ادارہ جاتی کردار پر توجہ بڑھ رہی ہے۔

وفاقی حکومت کے ایک الگ نوٹیفکیشن کے مطابق کیپٹن ریٹائرڈ محمد سہیل چوہدری، جو اس وقت حکومت پنجاب کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں، اسلام آباد پولیس کے نئے سربراہ کے طور پر علی ناصر رضوی کی جگہ لیں گے۔ ان کی تعیناتی کے انتظامی تقاضے متعلقہ سرکاری احکامات کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔

این سی سی آئی اے کو الیکٹرانک جرائم کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا ہے اور اس کا دائرہ کار سائبر کرائم سے متعلق مقدمات، ڈیجیٹل شواہد، آن لائن مالی جرائم اور دیگر ایسے معاملات تک پھیلا ہوا ہے جو متعلقہ قانون کے تحت آتے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ ادارے کی تفتیشی ترجیحات، انتظامی سمت اور مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔

تقرری کے نوٹیفکیشن میں کسی مخصوص زیرِ تفتیش مقدمے یا کارروائی کے بارے میں ہدایت نہیں دی گئی، اس لیے اس تبدیلی کو سرکاری انتظامی تقرری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نئی قیادت کے تحت این سی سی آئی اے کی کارکردگی، تحقیقات کے معیار اور سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملی آئندہ عرصے میں اہم رہیں گی۔