عالمی ٹیکنالوجی اور ای کامرس کمپنی ایمیزون اپنی پہلی پاؤنڈ سٹرلنگ بانڈ فروخت کے ذریعے 4.25 ارب پاؤنڈ، یعنی تقریباً 5.8 ارب ڈالر، اکٹھا کرنے جا رہی ہے۔ رائٹرز نے بانڈ فروخت کے لیڈ منیجرز کے حوالے سے بتایا کہ یہ اجرا چار حصوں پر مشتمل ہے اور سرمایہ کاروں کی جانب سے طلب ابتدائی توقعات سے زیادہ رہی۔ کمپنی کے لیے یہ قدم قرض کے ذرائع اور کرنسیوں کو متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، ایسے وقت میں جب بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز سمیت بھاری سرمایہ کاری والے منصوبوں کے لیے بانڈ مارکیٹوں سے بڑے پیمانے پر رقوم حاصل کر رہی ہیں۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق ایمیزون تین سالہ بانڈز میں 1.25 ارب پاؤنڈ اور چھ، بارہ اور انیس سال کی مدت والے بانڈز میں ایک ایک ارب پاؤنڈ اکٹھا کرے گا۔ ان بانڈز کی قیمت بندی برطانوی حکومتی بانڈز کے مقابلے میں مختلف اضافی شرحوں پر کی گئی ہے۔ فروخت کے دوران مجموعی سرمایہ کار طلب 12 ارب پاؤنڈ سے زیادہ بتائی گئی، جس سے کمپنی کو پہلے متوقع حجم سے بڑا اجرا کرنے کی گنجائش ملی۔ یہ ایمیزون کی سٹرلنگ مارکیٹ میں پہلی بانڈ فروخت ہے، تاہم کمپنی اس سے قبل یورو، سوئس فرانک اور کینیڈین ڈالر سمیت دوسری کرنسیوں میں بھی قرض حاصل کر چکی ہے۔

رائٹرز کے مطابق 2026 میں بڑی کلاؤڈ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بانڈ جاری کرنے کی سرگرمی نمایاں طور پر بڑھی ہے اور اس رجحان کے پیچھے مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر پر بڑھتے اخراجات اہم محرک ہیں۔ ایسے قرضوں کی تیز رفتار توسیع نے مالیاتی منڈیوں میں یہ بحث بھی پیدا کی ہے کہ بڑے ٹیکنالوجی قرض لینے والے دیگر کمپنیوں کے لیے سرمایہ مہنگا یا محدود کر سکتے ہیں۔ ایمیزون کا تازہ اجرا اسی وسیع تر رجحان کی ایک نمایاں مثال ہے، تاہم بانڈ کی مضبوط طلب سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اعلیٰ معیار کے بڑے کارپوریٹ قرض کے لیے اب بھی نمایاں دلچسپی رکھتے ہیں۔