عالمی بینک بارکلیز نے امریکی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس کے لیے 2026 کے اختتام کا ہدف 7,800 سے بڑھا کر 7,950 کر دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق بینک نے اس نظرثانی کی بنیادی وجہ امریکی کمپنیوں کی توقع سے بہتر آمدن، خصوصاً ٹیکنالوجی شعبے کی کارکردگی، اور مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری کی مسلسل رفتار کو قرار دیا۔ نیا ہدف انڈیکس کی حالیہ بندش کے مقابلے میں محدود اضافی گنجائش ظاہر کرتا ہے، تاہم یہ ایک مارکیٹ پیش گوئی ہے اور مستقبل کی قیمت کی ضمانت نہیں۔
ایل ایس ای جی کے اعداد کے مطابق دوسری سہ ماہی میں رپورٹ کرنے والی 492 ایس اینڈ پی 500 کمپنیوں میں سے تقریباً 86 فیصد نے تجزیہ کاروں کی منافع توقعات سے بہتر نتائج دیے، جو طویل مدتی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ بارکلیز نے اسی بنیاد پر 2026 کے لیے ایس اینڈ پی 500 کمپنیوں کی فی حصص آمدن کا تخمینہ 337 ڈالر سے بڑھا کر 365 ڈالر کیا۔ بینک کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے، ڈیٹا سینٹرز اور متعلقہ ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کارپوریٹ منافع کے لیے معاون رہ سکتی ہے، جبکہ امریکی معاشی سرگرمی بھی نسبتاً مضبوط ہے۔
اس مثبت منظرنامے کے باوجود بارکلیز نے بلند مارکیٹ ویلیوایشن، مسلسل مہنگائی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور شرح سود کے نسبتاً سخت ماحول کو خطرات میں شمار کیا۔ مصنوعی ذہانت پر بڑے اخراجات کے منافع بخش ہونے اور طویل مدت تک برقرار رہنے کے بارے میں بھی سرمایہ کاروں میں سوالات موجود ہیں۔ بینک نے ریگولیٹری خطرات اور ڈیٹا سینٹر منصوبوں کے خلاف بڑھتی مقامی مزاحمت کے باعث یوٹیلیٹیز شعبے کی درجہ بندی کو کم کرکے ’نیوٹرل‘ کر دیا۔ رائٹرز کے مطابق دیگر بڑے مالیاتی اداروں نے بھی امریکی حصص کے لیے نسبتاً بلند سالانہ اہداف دیے ہیں، لیکن ان پیش گوئیوں میں فرق اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مارکیٹ کا رخ کمپنی نتائج کے ساتھ مہنگائی، شرح سود، توانائی قیمتوں اور عالمی تنازعات سے بھی تیزی سے متاثر ہو سکتا ہے۔




