پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں صوبے کی اپنی ذرائع سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن 150.84 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ نظرثانی شدہ ہدف 139.77 ارب روپے مقرر تھا۔ ان کے مطابق صوبے نے نظرثانی شدہ ہدف کا تقریباً 108 فیصد حاصل کیا۔
مشیر خزانہ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق صوبائی ٹیکس وصولیاں 87.74 ارب روپے رہیں جبکہ نان ٹیکس ریونیو 63.10 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ نان ٹیکس آمدن کے لیے نظرثانی شدہ ہدف 52.35 ارب روپے تھا، جس کے مقابلے میں وصولیاں تقریباً 120.5 فیصد رہیں۔ صوبائی حکومت نے ان اعداد کو اپنی محصولات جمع کرنے کی کارکردگی میں بہتری کے طور پر پیش کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال کے آغاز پر صوبے کی اپنی آمدن کا اصل بجٹ ہدف 129 ارب روپے تھا، جبکہ بعد میں اسے بڑھا کر 139.77 ارب روپے کیا گیا۔ 150.84 ارب روپے کی رپورٹ شدہ وصولیاں اصل ہدف سے بھی زیادہ بنتی ہیں۔ تاہم یہ اعداد صوبائی مشیر خزانہ کے بیان پر مبنی ہیں اور مختلف محکموں یا ریونیو اداروں کی تفصیلی وصولیوں کی مکمل جدول دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔
صوبائی اپنی آمدن میں ٹیکس اور نان ٹیکس دونوں ذرائع شامل ہوتے ہیں اور یہ وفاقی قابل تقسیم محاصل سے ملنے والے حصے سے الگ مالیاتی پیمانہ ہے۔ اس لیے اپنی ذرائع سے آمدن میں اضافہ صوبے کی مالی گنجائش کے لیے اہم ہوسکتا ہے، لیکن مجموعی بجٹ پوزیشن کا تعین وفاقی منتقلیوں، اخراجات، ترقیاتی پروگرام، واجبات اور دیگر مالی ذمہ داریوں کو شامل کرکے کیا جاتا ہے۔
اعداد و شمار کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ نظرثانی شدہ ہدف اصل بجٹ ہدف سے زیادہ تھا، اس کے باوجود رپورٹ شدہ وصولیاں اس بلند ہدف سے بھی آگے رہیں۔ نان ٹیکس ریونیو نے نسبتاً زیادہ کارکردگی دکھائی، جبکہ مجموعی ٹیکس وصولیاں بھی صوبائی اپنی آمدن کا بڑا حصہ رہیں۔ آئندہ مالیاتی دستاویزات اور آڈٹ شدہ حسابات سے ان وصولیوں کی محکمہ وار ساخت اور سال بہ سال موازنہ مزید واضح ہوسکے گا۔
خیبر پختونخوا کو ترقیاتی اخراجات، ضم اضلاع، سکیورٹی اور بنیادی خدمات سے متعلق مالی ضروریات کا سامنا رہتا ہے۔ ایسے میں اپنی آمدن میں اضافہ صوبائی مالیاتی منصوبہ بندی کے لیے اہم ہے، تاہم محصولات کی پائیداری کا جائزہ ایک مالی سال کے ہدف سے تجاوز کے ساتھ ساتھ اگلے برسوں میں وصولیوں کے تسلسل اور معاشی سرگرمی پر اثرات کو دیکھ کر کیا جائے گا۔




