سڈنی: مصنوعی ذہانت کی امریکی کمپنی انتھروپک اپنے مجوزہ ابتدائی عوامی حصص کی پیشکش، یعنی آئی پی او، میں آسٹریلوی سرمایہ کاروں کو بھی حصص خریدنے کا موقع دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق آسٹریلیا کے بروکریج پلیٹ فارم کامن ویلتھ سیکورٹیز، جسے کام سیک کے نام سے جانا جاتا ہے، نے 3 نومبر کو اس منصوبے سے متعلق معلومات جاری کیں۔

کام سیک کے مطابق اگر پیشکش طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھی تو آسٹریلیا کے اہل سرمایہ کار انتھروپک کے آئی پی او میں حصہ لے سکیں گے۔ اس مرحلے پر حصص کی قیمت، پیش کیے جانے والے حصص کی تعداد، کمپنی کی حتمی قدر یا لسٹنگ کی قطعی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے مجوزہ پیشکش کو مکمل شدہ لسٹنگ یا سرمایہ اکٹھا ہونے کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔

انتھروپک جنریٹو مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نمایاں کمپنیوں میں شامل ہے اور اس کا کلاڈ نامی اے آئی ماڈل کاروباری اور عام صارفین کے لیے مختلف خدمات میں استعمال ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری میں تیزی کے باعث بڑے نجی ٹیکنالوجی اداروں کی ممکنہ عوامی لسٹنگ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

آسٹریلوی سرمایہ کاروں کو کسی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کے آئی پی او تک براہ راست رسائی دینا مقامی بروکریج مارکیٹ کے لیے بھی اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ عام طور پر بڑے امریکی آئی پی اوز میں ابتدائی حصص کی تقسیم ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور مخصوص بروکریج نیٹ ورکس کے ذریعے ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بیرونِ امریکا عام سرمایہ کاروں کی رسائی محدود رہ سکتی ہے۔

تاہم کسی بھی آئی پی او کی حتمی ساخت ریگولیٹری منظوری، مارکیٹ کی صورتحال، کمپنی کے مالی انکشافات اور سرمایہ کاروں کی طلب پر منحصر ہوتی ہے۔ انتھروپک یا اس کے مالی مشیروں کی جانب سے حتمی پراسپیکٹس سامنے آنے سے پہلے قیمت اور ممکنہ منافع کے بارے میں اندازے غیر یقینی رہیں گے۔

اے آئی شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ کمپنیوں کی قدر اور مستقبل کی آمدنی سے متعلق سوالات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے انتھروپک کی ممکنہ لسٹنگ نہ صرف کمپنی کے لیے سرمایہ اکٹھا کرنے کا ذریعہ ہوگی بلکہ یہ اس بات کا بھی اہم امتحان بن سکتی ہے کہ عوامی منڈی کے سرمایہ کار تیزی سے بڑھتے مگر سرمایہ طلب اے آئی کاروباروں کی قدر کیسے متعین کرتے ہیں۔