اسلام آباد: اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز (ترمیمی) بل 2026 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق بل 29 اکتوبر کو ایوان میں رکھا گیا، جبکہ مجوزہ ترامیم کا مقصد پاکستان کے اینٹی ڈمپنگ نظام کے طریقہ کار کو بہتر بنانا، ڈیوٹی کی وصولی مؤثر کرنا اور اپیل کے مراحل کو زیادہ واضح بنانا ہے۔
بل کے اغراض و مقاصد کے مطابق اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ایکٹ 2015 ملکی صنعتوں کو ایسی درآمدات سے تحفظ دینے کا قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے جو مبینہ طور پر اصل یا معمول کی قیمت سے کم نرخوں پر پاکستان میں فروخت کی جاتی ہوں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ قانون میں بعض طریقہ کار اور عملی پہلوؤں میں ترامیم کی ضرورت پیدا ہوئی ہے تاکہ اپیل کے نظام کی کارکردگی بہتر ہو اور سرکاری محصولات کا تحفظ کیا جا سکے۔
مجوزہ ترمیم کے تحت نیشنل ٹیرف کمیشن کو مخصوص حالات میں عبوری اقدامات کی مدت چھ ماہ سے بڑھا کر نو ماہ کرنے کی گنجائش دی جائے گی، خصوصاً جب کم ڈیوٹی کے اصول کے اطلاق کا جائزہ لیا جا رہا ہو۔ ڈیوٹی کی وصولی سے متعلق دفعات میں کسٹمز قوانین کے تحت ریکوری کے طریقہ کار کو واضح طور پر شامل کرنے اور عبوری عدالتی حکم کی صورت میں بینک گارنٹی یا پے آرڈر جیسی سکیورٹی کے تقاضوں کو واضح کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
بل میں بعض ریفنڈ معاملات اور نامعلوم برآمد کنندگان یا پروڈیوسرز پر لاگو بقایا ڈیوٹی شرحوں کے حساب کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اپیل کے شعبے میں تجویز ہے کہ صرف تحقیقات شروع ہونے کے خلاف قبل از وقت اپیل کی اجازت نہ ہو، جبکہ اپیل دائر کرنے کی مدت 45 دن سے کم کر کے 30 دن کر دی جائے۔ اینٹی سرکم وینشن تحقیقات کے حتمی فیصلوں کو بھی اپیلیٹ ٹریبونل کے دائرہ اختیار میں لانے کی تجویز ہے۔
یہ تمام تبدیلیاں ابھی مجوزہ قانون کا حصہ ہیں، نافذ شدہ ترامیم نہیں۔ قومی اسمبلی میں بل پیش ہونا قانون سازی کے عمل کا ابتدائی پارلیمانی مرحلہ ہے؛ حتمی قانونی اثر متعلقہ پارلیمانی منظوری اور آئینی تقاضوں کی تکمیل کے بعد ہی پیدا ہوگا۔ اس لیے مجوزہ دفعات کو موجودہ قانون کی نافذ شرائط کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

