اسلام آباد: پاکستان میں حساس قیمت اشاریے سے ماپی جانے والی ہفتہ وار مہنگائی 29 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مجموعی صارف گروپ کے لیے 0.35 فیصد کم ہوئی ہے۔ پاکستان بیورو شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق زیر جائزہ ہفتے میں ایس پی آئی 373.51 پوائنٹس پر آگیا، جو اس سے پچھلے ہفتے 374.84 پوائنٹس تھا۔
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق ہفتہ وار سطح پر کمی کے باوجود گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں حساس قیمت اشاریے کی مہنگائی 11.32 فیصد زیادہ رہی۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ قلیل مدت میں بعض ضروری اشیا کی قیمتوں میں نرمی آئی ہے، لیکن ایک سال کے مقابلے میں صارفین پر مجموعی قیمتوں کا دباؤ بدستور نمایاں ہے۔
حساس قیمت اشاریہ ملک میں روزمرہ استعمال کی منتخب ضروری اشیا کی قیمتوں میں ہفتہ وار تبدیلی جانچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں مختلف آمدنی گروپوں کے صارفین کے لیے خوراک، ایندھن اور گھریلو ضرورت کی متعدد اشیا شامل ہوتی ہیں۔ ہفتہ وار اتار چڑھاؤ عموماً سبزیوں، دالوں، چینی، آٹے، گوشت اور توانائی کی قیمتوں میں فوری تبدیلیوں سے متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ سالانہ شرح ایک نسبتاً وسیع عرصے میں قیمتوں کے مجموعی رجحان کی تصویر پیش کرتی ہے۔
تازہ اعداد ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت اور معاشی پالیسی ساز مہنگائی کے دباؤ کو محدود کرنے، رسد بہتر بنانے اور منڈیوں میں قیمتوں کی نگرانی بڑھانے پر زور دے رہے ہیں۔ حالیہ سرکاری معاشی جائزوں میں بھی مہنگائی کے ماہانہ رجحان، برآمدات اور مالیاتی نظم کو معاشی استحکام کے اہم اشاریوں میں شمار کیا گیا ہے۔ تاہم ہفتہ وار ایس پی آئی کا سالانہ 11 فیصد سے زیادہ رہنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ضروری اشیا کی قیمتیں اب بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں خاصی بلند سطح پر ہیں۔
پی بی ایس کے اعداد میں ایک ہفتے کی کمی کو مستقل رجحان قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتیں موسم، درآمدی لاگت، عالمی اجناس کی منڈی، نقل و حمل اور مقامی رسد سے تیزی سے متاثر ہوتی ہیں۔ آئندہ ہفتوں کے ایس پی آئی اعداد سے واضح ہوگا کہ 0.35 فیصد کی حالیہ کمی برقرار رہتی ہے یا قیمتوں میں دوبارہ اضافہ سامنے آتا ہے۔

