اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب نے توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے، جس میں اسٹریٹجک تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات، ملکی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، خام تیل اور مائع پٹرولیم گیس کی خریداری اور معدنی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات شامل ہیں۔ یہ پیش رفت وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجح بن تمی البقامی کی ملاقات میں سامنے آئی۔

پٹرولیم ڈویژن کے بیان کے مطابق دونوں جانب نے توانائی کے شعبے میں تجارتی روابط مضبوط بنانے اور ایسے منصوبوں پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو پاکستان کی توانائی سلامتی اور سعودی کمپنیوں کے علاقائی کاروباری مفادات دونوں کے لیے فائدہ مند ہوں۔ وزیر پٹرولیم نے سعودی وفد کو پاکستان کے اس ٹیکس نیوٹرل بانڈڈ پالیسی فریم ورک سے آگاہ کیا جس کے تحت غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر تیل ذخیرہ کرنے کے امکانات کا جائزہ لے سکتی ہیں۔

حکومتی بیان میں کہا گیا کہ اس ماڈل کا مقصد پاکستان کو علاقائی توانائی رسد میں زیادہ مؤثر مقام دینا اور سمندری راستوں میں ممکنہ خلل کے خطرات کے مقابل متبادل ذخیرہ اور ترسیل کی گنجائش پیدا کرنا ہے۔ علی پرویز ملک نے بلوچستان کے حب میں مجوزہ بڑے پٹرولیم اسٹوریج اور ریفائننگ کمپلیکس کا بھی ذکر کیا، جسے حکومت علاقائی توانائی راہداری کے وسیع تصور سے جوڑ رہی ہے۔ منصوبے کی عملی تفصیلات، سرمایہ کاری اور تکمیل کی مدت ابھی حتمی نہیں بتائی گئی۔

ملاقات میں پاکستان کے جاری ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام پر بھی بات ہوئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد مقامی ریفائننگ انفراسٹرکچر کو جدید بنانا، کارکردگی بہتر کرنا اور یورو-5 معیار کے ایندھن کی جانب منتقلی میں مدد دینا ہے۔ پاکستانی جانب نے سعودی سرمایہ کاروں کو اس عمل میں شرکت کے مواقع کا جائزہ لینے کی دعوت دی۔

وزیر پٹرولیم نے حالیہ عالمی منڈی کی رکاوٹوں کے دوران سعودی تعاون کو سراہا اور ینبع بندرگاہ پر پاکستان کے لیے خام تیل کی ترسیل کو ترجیح دینے پر سعودی حکام کا شکریہ ادا کیا۔ بیان کے مطابق سعودی آرامکو کے ساتھ خام تیل کی خریداری بڑھانے اور سردیوں میں متوقع اضافی گیس طلب کے پیش نظر ایل پی جی کی مخصوص کھیپوں کے انتظام پر بھی گفتگو ہوئی۔

معدنیات کے شعبے میں پاکستان نے سعودی عرب کے نائب وزیر کان کنی خالد المدافر کو 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت دی۔ دونوں فریقوں نے دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کو وسیع اقتصادی شراکت داری کے لیے بنیاد قرار دیا، تاہم کسی نئے سرمایہ کاری معاہدے کی مالیت یا حتمی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اسی ملاقات کے موقع پر بتایا گیا کہ اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے نے پاکستانی شہریوں کی ویزا درخواستوں کے لیے اسی روز پراسیسنگ کی سہولت فوری طور پر متعارف کرا دی ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد کاروباری، ثقافتی اور عوامی روابط کو آسان بنانا ہے۔ ویزا جاری ہونا متعلقہ ضوابط اور درخواست کی تکمیل سے مشروط رہے گا۔