اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب سمیت غیر ملکی توانائی کمپنیوں کو ملک میں تجارتی تیل ذخائر قائم کرنے کی جانب راغب کرنے کے لیے ٹیکس نیوٹرل بانڈڈ پالیسی منظور کر لی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجح بن تمی البقامی سے ملاقات میں اس پالیسی اور توانائی، معدنیات، ریفائنری اپ گریڈیشن اور ایل پی جی کے شعبوں میں ممکنہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق نئی پالیسی بین الاقوامی توانائی مراکز فجیرہ اور سنگاپور کے ماڈلز کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے۔ اس فریم ورک کے تحت سعودی کمپنیاں پاکستان میں تجارتی تیل ذخائر قائم کر سکیں گی اور ان ذخائر پر مقامی ٹیکس ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس انتظام سے آبنائے ہرمز اور باب المندب سے منسلک بحری ترسیلی خطرات کو متبادل راستوں کے ذریعے کم کرنے اور ایشیائی منڈیوں تک رسائی میں لچک پیدا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
ملاقات میں بلوچستان کے علاقے حب میں ایک بڑے پیٹرولیم اسٹوریج اور ریفائننگ کمپلیکس کے مجوزہ منصوبے کا بھی ذکر ہوا۔ حکام کے مطابق اس منصوبے پر ٹیکنپ انرجیز یوکے کی رہنمائی میں کام کیا جا رہا ہے اور اسے بڑے خام تیل بردار جہازوں، یعنی ویری لارج کروڈ کیریئرز، کو سنبھالنے کے قابل بنانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ حکومت اسے مستقبل میں وسطی ایشیا اور چین کی منڈیوں کے لیے پاکستان کے علاقائی توانائی راہداری کے کردار سے جوڑ رہی ہے، تاہم منصوبے کی تکمیل اور سرمایہ کاری کی حتمی تفصیلات ابھی عملی مراحل سے مشروط ہیں۔
علی پرویز ملک نے پاکستان کے جاری ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام میں سعودی سرمایہ کاری کے امکانات بھی اجاگر کیے۔ اس پروگرام کا مقصد ملکی ریفائننگ انفراسٹرکچر کو جدید بنانا، کارکردگی بہتر کرنا اور یورو 5 معیار کے ایندھن کی جانب منتقلی ہے۔ انہوں نے حالیہ عالمی منڈی کی رکاوٹوں کے دوران ینبع بندرگاہ سے پاکستان کے خام تیل کارگو کو ترجیح دینے پر سعودی حکام کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ملاقات میں سعودی آرامکو کے ساتھ خام تیل کی خریداری بڑھانے اور سردیوں میں متوقع اضافی گیس طلب کے پیش نظر مخصوص ایل پی جی شپمنٹس کے امکانات پر رابطہ کاری کا بھی ذکر ہوا۔ سعودی سفیر نے بتایا کہ اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے نے پاکستانی شہریوں کے ویزا درخواستوں کے لیے اسی روز پراسیسنگ کا نظام متعارف کرایا ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے سعودی نائب وزیر معدنیات خالد المدیفر کو نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

