ہانگ کانگ/بیجنگ: ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن، ایپیک، کے رکن ممالک اور معیشتوں کے وزرائے خزانہ نے عالمی غیر یقینی صورت حال اور بیرونی معاشی خطرات سے نمٹنے کے لیے میکرو اکنامک پالیسیوں میں رابطہ اور تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ چین کے وزیر خزانہ لین فوان نے اجلاس کے بعد کہا کہ اراکین نے مالیاتی اور بجٹ نظام کو زیادہ مضبوط بنانے اور علاقائی معاشی استحکام کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت تسلیم کی ہے۔

اجلاس میں مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ٹیکنالوجیز کو پیداوار بڑھانے اور نئی معاشی سرگرمی پیدا کرنے کے ممکنہ ذرائع کے طور پر بھی زیر بحث لایا گیا۔ چینی وزیر خزانہ کے مطابق پالیسی سازوں نے اس بات پر توجہ دی کہ نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مالیاتی نظم و ضبط اور سرکاری مالیات کی پائیداری بھی برقرار رکھی جائے۔ گھرانوں کی معاونت اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کو گھریلو طلب اور پیداوار بڑھانے کے ممکنہ طریقوں میں شمار کیا گیا۔

اجلاس کے نتیجے میں ایشیا پیسیفک خطے کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی فنانسنگ سے متعلق ایک پالیسی بیان بھی جاری کیا گیا۔ اس میں رکن معیشتوں کو قابل اعتماد، قابل رسائی، وسیع پیمانے پر قابل توسیع، محفوظ اور مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ ڈیجیٹل خواندگی، مہارتوں، مختلف نظاموں کے باہمی ربط اور سرحد پار ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو خطے کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

بیان میں سرکاری شعبے، نجی کمپنیوں اور کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں کے درمیان زیادہ تعاون کی تجویز دی گئی۔ حکومتوں سے سازگار پالیسی اور ضابطہ جاتی ماحول بنانے، نجی شعبے سے سرمایہ اور نئے فنانسنگ طریقے فراہم کرنے جبکہ ترقیاتی بینکوں سے منصوبوں کی تیاری اور سرمایہ کاری متوجہ کرنے میں کردار ادا کرنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

سنگاپور کے دوسرے وزیر خزانہ جیفری سیاؤ نے اجلاس میں عالمی ترقی کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے طویل تنازعات، بڑھتی جغرافیائی سیاسی تقسیم اور مصنوعی ذہانت سے متوقع پیداواری فوائد کے کم رہ جانے کے امکان کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایپیک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ٹیکنالوجی کمپنیوں، تربیتی اداروں اور صنعت کے شراکت داروں سے جوڑ کر AI کے استعمال میں مدد دے سکتا ہے۔ اجلاس کا مجموعی پیغام یہ رہا کہ خطے کی معیشتیں عالمی دباؤ کے مقابلے کے لیے پالیسی رابطے، ڈیجیٹل سرمایہ کاری اور مالیاتی استحکام کو بیک وقت آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔