لاہور: پنجاب حکومت گندم کی خریداری، ذخیرہ کاری اور مارکیٹ میں فراہمی کے روایتی سرکاری ماڈل میں تبدیلی کے لیے نئی پالیسی تیار کر رہی ہے، جس میں نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ مجوزہ نظام کا مقصد صوبائی حکومت پر بھاری مالی اور ذخیرہ جاتی بوجھ کم کرنا اور گندم کی تجارت کو زیادہ مارکیٹ پر مبنی بنانا ہے۔
گزشتہ برسوں میں پنجاب حکومت بڑے پیمانے پر گندم خرید کر سرکاری گوداموں میں ذخیرہ کرتی اور بعد میں فلور ملز کو جاری کرتی رہی ہے۔ اس ماڈل کے تحت خریداری کے لیے بینک قرض، سود، گودام، نقل و حمل اور اسٹاک کی دیکھ بھال پر نمایاں اخراجات آتے ہیں۔ نئی سمت میں حکومت ریگولیٹری اور نگرانی کے کردار پر زیادہ توجہ جبکہ خریداری اور ذخیرہ کاری میں نجی ملوں، تاجروں اور مالیاتی اداروں کی شرکت بڑھانا چاہتی ہے۔
پالیسی کا اہم امتحان کسانوں کو فصل کے وقت مناسب قیمت دلانا ہوگا۔ اگر سرکاری خریداری محدود ہوتی ہے تو منڈی میں مسابقت، خریداروں کی تعداد اور مالیاتی سہولت اس بات کا تعین کرے گی کہ چھوٹے کسان فوری نقد ضرورت کے باعث کم قیمت پر گندم فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں یا انہیں بہتر نرخ ملتے ہیں۔ حکومت کو ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر نگرانی درکار ہوگی۔
فلور ملز اور نجی خریداروں کے لیے بینک فنانسنگ، گودام رسیدوں اور معیاری ذخیرہ سہولیات تک رسائی نئی پالیسی کی کامیابی میں اہم ہو سکتی ہے۔ اگر نجی شعبہ فصل کے موسم میں کافی مقدار خریدنے کے قابل نہ ہوا تو کسانوں کے لیے طلب کم ہونے اور قیمت دباؤ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب مؤثر نجی خریداری سرکاری قرض اور اسٹاک رکھنے کی لاگت میں کمی لا سکتی ہے۔
صارفین کے لیے بنیادی سوال آٹے کی قیمت اور دستیابی ہے۔ گندم کی منڈی کو آزاد کرنے کے ساتھ حکومت کو اسٹریٹجک ذخائر، درآمد یا برآمد کے فیصلوں اور ہنگامی مداخلت کے واضح اصول درکار ہوں گے تاکہ خراب فصل یا قیمتوں میں اچانک اضافے کے دوران خوراک کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
مجوزہ پالیسی کے تمام نکات ابھی حتمی نہیں سمجھے جا سکتے۔ خریداری کا حجم، کسانوں کے لیے ممکنہ تحفظ، نجی شعبے کی اہلیت، ذخائر کی کم از کم سطح اور سرکاری مداخلت کے قواعد باضابطہ منظوری اور نوٹیفکیشن کے بعد واضح ہوں گے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو پالیسی کی تیاری کے مرحلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ مکمل طور پر نافذ شدہ نئے نظام کے طور پر۔
