پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں نکالی جانے والی مختلف معدنیات پر رائلٹی کی شرحوں میں نظرثانی کر دی ہے۔ محکمہ معدنیات کے مطابق نئی شرحوں کا مقصد معدنی وسائل سے صوبائی آمدن میں بہتری، مارکیٹ کی موجودہ قیمتوں کے ساتھ محصولات کو ہم آہنگ کرنا اور کان کنی کے شعبے میں مالی نظم کو مضبوط بنانا ہے۔
رائلٹی وہ ادائیگی ہے جو معدنی وسائل نکالنے والے لیز ہولڈرز یا آپریٹرز حکومت کو معدنیات کی مقدار یا قیمت کی بنیاد پر ادا کرتے ہیں۔ مختلف معدنیات کے لیے شرحیں یکساں نہیں ہوتیں اور ان کا تعین معدنی نوعیت، مارکیٹ ویلیو، پیداواری لاگت اور متعلقہ قانونی فریم ورک کے مطابق کیا جاتا ہے۔ نئی نظرثانی میں متعدد معدنی اقسام کے نرخ تبدیل کیے گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں ماربل، گرینائٹ، کرومائٹ، کوئلہ، قیمتی اور نیم قیمتی پتھر اور دیگر معدنی وسائل کی کان کنی ہوتی ہے۔ صوبائی حکومت گزشتہ چند برسوں سے معدنی شعبے کی دستاویز بندی، لیز مینجمنٹ، غیر قانونی کان کنی کی روک تھام اور محصولات کی وصولی بہتر بنانے کے لیے قواعد اور انتظامی نظام میں تبدیلیاں کرتی رہی ہے۔
نئے رائلٹی نرخوں کا اثر کان کنی کرنے والی کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کی پیداواری لاگت پر پڑ سکتا ہے۔ صنعت سے وابستہ فریق عام طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ محصولات میں اضافہ کرتے وقت بجلی، ایندھن، نقل و حمل، سکیورٹی اور مشینری کی لاگت کو بھی مدنظر رکھا جائے، تاکہ قانونی کان کنی مسابقتی رہے اور غیر رسمی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کے لیے معدنیات اہم غیر ٹیکس آمدن کا ذریعہ ہیں۔ اگر رائلٹی کی تشخیص، پیداوار کے ریکارڈ اور وصولی کا نظام مؤثر ہو تو نئی شرحیں صوبائی خزانے کے لیے اضافی وسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ صرف شرح بڑھانا کافی نہیں؛ اصل نتیجہ پیداوار کی درست پیمائش، ڈیجیٹل نگرانی، قانونی لیزوں کی پابندی اور واجبات کی وصولی پر منحصر ہوگا۔
متعلقہ لیز ہولڈرز کے لیے قابل اطلاق نئی رقم معدنی قسم، مقدار اور سرکاری نوٹیفکیشن میں درج طریقہ حساب کے مطابق ہوگی۔ کسی مخصوص کان یا کمپنی پر مالی اثر کا درست اندازہ اس کے پیداواری حجم اور معدنی نوعیت کے بغیر نہیں لگایا جا سکتا۔ محکمہ معدنیات کی جانب سے جاری کردہ سرکاری شیڈول ہی حتمی شرحوں اور ان کے نفاذ کی بنیاد ہوگا۔

