نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت گندم کی درآمد سے متعلق اعلیٰ سطح کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں موجود گندم کے ذخائر، آئندہ طلب اور رسد کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اجلاس کا مرکزی مقصد تمام صوبوں میں گندم کی دستیابی برقرار رکھنے، قیمتوں میں توازن اور غذائی تحفظ کے انتظامات کو مضبوط بنانا تھا۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 21 اکتوبر کو جاری سرکاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کو قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ضرورت ہو وہاں درآمدی طریقۂ کار کو ہموار کیا جائے اور ملک بھر میں تقسیم کے نظام میں رکاوٹ نہ آنے دی جائے تاکہ صارفین کو مارکیٹ میں اچانک اتار چڑھاؤ کے اثرات سے بچایا جا سکے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، سندھ کے محکمہ خوراک کے وزیر، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ اور قومی غذائی تحفظ، تجارت اور قانون و انصاف کی وزارتوں کے سیکریٹریز شریک ہوئے۔ صوبوں، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور متعلقہ محکموں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

سرکاری بیان میں اس اجلاس کے نتیجے میں کسی نئی مقدار کی گندم درآمد کرنے، نیا ٹینڈر جاری کرنے یا درآمدی قیمت طے کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اجلاس کو نئی خریداری کے حتمی فیصلے کے بجائے ذخائر، ضرورت اور سپلائی انتظامات کے جائزے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت نے خاص طور پر یہ ہدایت دی کہ درآمدی انتظامات صرف ضرورت کے مطابق ہموار کیے جائیں اور وفاقی و صوبائی سطح پر تقسیم کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔

پاکستان میں گندم کی دستیابی اور قیمت کا معاملہ حالیہ مہینوں میں پالیسی بحث کا اہم موضوع رہا ہے۔ اس سے پہلے حکومت درآمدی ضروریات اور صوبائی طلب کے تخمینوں کا متعدد مرتبہ جائزہ لے چکی ہے۔ 21 اکتوبر کے اجلاس میں بھی توجہ اس بات پر رہی کہ موجودہ ذخائر اور متوقع کھپت کو سامنے رکھ کر ایسا انتظام کیا جائے جس سے کسی صوبے میں قلت یا قیمتوں کے غیر معمولی دباؤ کا خطرہ کم ہو۔

اسحاق ڈار نے غذائی تحفظ کے مضبوط حفاظتی انتظامات کو ضروری قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے اور سپلائی چین کی نگرانی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق مقصد یہ ہے کہ گندم کی دستیابی اور قیمتوں میں توازن برقرار رہے اور ضرورت پڑنے پر درآمدی و تقسیم کے انتظامات بروقت فعال کیے جا سکیں۔