اسلام آباد: پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے مرکزی دفتر کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کی تجویز پر وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلاف سامنے آیا ہے۔ پیٹرولیم حکام کا مؤقف ہے کہ ہیڈکوارٹر کی منتقلی سے وفاقی وزارتوں اور ریگولیٹری اداروں کے ساتھ رابطہ بہتر ہوگا، جبکہ پیپلز پارٹی اسے کراچی اور سندھ کے معاشی و انتظامی مفادات کے خلاف اقدام قرار دے رہی ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ پی پی ایل کے پیداواری اثاثے، فیلڈ آپریشنز اور متعلقہ دفاتر کراچی یا ان کے موجودہ مقامات سے منتقل نہیں کیے جا رہے۔ زیر غور تبدیلی بنیادی طور پر کارپوریٹ ہیڈکوارٹر اور اعلیٰ انتظامی رابطے سے متعلق ہے۔ پیٹرولیم حکام نے سیاسی مقصد کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے انتظامی کارکردگی اور وفاقی اداروں تک رسائی کا معاملہ قرار دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اعتراض کیا ہے کہ پی پی ایل تاریخی طور پر کراچی سے منسلک ایک بڑی قومی توانائی کمپنی ہے اور اس کے مرکزی دفتر کی منتقلی سے شہر میں اعلیٰ سطح کی ملازمتوں، کاروباری سرگرمی اور ادارہ جاتی موجودگی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ پارٹی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی حتمی فیصلے سے پہلے سندھ حکومت اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائے۔

پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ تیل اور گیس کی تلاش و پیداوار کے شعبے میں ملک کی بڑی کمپنیوں میں شامل ہے اور وفاقی حکومت اس میں نمایاں حصص رکھتی ہے۔ کمپنی کے مختلف پیداواری میدان ملک کے کئی حصوں میں واقع ہیں، اس لیے ہیڈکوارٹر کی جغرافیائی جگہ اور فیلڈ آپریشنز کی جگہ الگ معاملات ہیں۔ مرکزی دفتر کی منتقلی سے کمپنی کی قانونی رجسٹریشن، ملازمین کی تعیناتی، عمارتوں اور انتظامی اخراجات سے متعلق الگ فیصلے بھی درکار ہو سکتے ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ منتقلی کے لیے حتمی منظوری کس مرحلے پر ہے، کتنے ملازمین متاثر ہوں گے اور اس پر کتنی لاگت آئے گی۔ اس لیے تجویز کو مکمل شدہ منتقلی کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ کمپنی کے بورڈ، متعلقہ وزارت اور دیگر مجاز فورمز کی منظوریوں کی نوعیت حتمی فیصلے میں اہم ہوگی۔

معاملہ وفاق اور سندھ کے درمیان سرکاری اداروں کی جغرافیائی موجودگی سے متعلق وسیع سیاسی بحث سے بھی جڑ گیا ہے۔ اگر حکومت منصوبہ آگے بڑھاتی ہے تو ملازمین، صوبائی حکومت، کمپنی کے شیئر ہولڈرز اور دیگر فریقوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے واضح کاروباری جواز اور منتقلی کا تفصیلی منصوبہ پیش کرنا پڑ سکتا ہے۔