کیوپرٹینو: ایپل نے 9 ستمبر کو اپنے سالانہ پروڈکٹ ایونٹ میں کمپنی کا پہلا فولڈ ایبل اسمارٹ فون ’ڈو‘ متعارف کرا دیا، جسے کمپنی کے آئی فون کاروبار میں کئی برس کی سب سے نمایاں ڈیزائن تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈان میں شائع رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ڈو بند حالت میں پاسپورٹ کے حجم اور شکل سے مشابہ ہے، جبکہ کھولنے پر اس کی اندرونی اسکرین افقی طور پر وسیع ڈسپلے فراہم کرتی ہے۔ سامنے ایک نسبتاً چھوٹی بیرونی اسکرین بھی موجود ہے۔
یہ ایونٹ نئے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنس کی قیادت میں ایپل کی پہلی بڑی آئی فون پیشکش تھی۔ کمپنی نے کہا کہ کھلی حالت میں ڈو اس کا سب سے پتلا فون ہے۔ فولڈ ایبل ڈیوائس کی حتمی قیمت رپورٹ میں باضابطہ طور پر بیان نہیں کی گئی، تاہم تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ اس کی قیمت دو ہزار ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ سام سنگ اور ہواوے کئی برس سے فولڈنگ فون فروخت کر رہے ہیں، لیکن یہ شعبہ اب بھی مجموعی اسمارٹ فون مارکیٹ کے مقابلے میں محدود ہے۔
ایپل نے اسی تقریب میں آئی فون 18 پرو اور 18 پرو میکس بھی متعارف کرائے، جن کی ابتدائی قیمتیں بالترتیب 1,199 اور 1,299 ڈالر بتائی گئیں۔ نئے پرو ماڈلز میں اے 20 پرو چپ شامل ہے، جسے فون پر ہی جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز چلانے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کمپنی نے سری کے اپ ڈیٹڈ ورژن کا بھی اعلان کیا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ اجرا کے وقت وہ تقریباً تین لاکھ ایپس کے ساتھ کام کر سکے گا۔
مصنوعی ذہانت سے تیار یا تبدیل شدہ تصاویر کے بڑھتے مسئلے کے تناظر میں ایپل نے ’ایپل ریفرنس امیج‘ نامی نیا معیار پیش کیا ہے، جس کا مقصد نئے آئی فون 18 پرو کیمروں سے بننے والی تصاویر کی اصلیت ثابت کرنے میں مدد دینا ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ وہ اے آئی سے بنائی یا ایڈٹ کی گئی تصاویر کی شناخت کے لیے ابھرتے ہوئے SynthID معیار کی حمایت کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق ایپل ریفرنس امیج فیچر یورپی یونین اور چین میں دستیاب نہیں ہوگا۔
تقریب میں نئے ایئر پوڈز، ایپل واچ سیریز 12 اور ایپل واچ الٹرا 4 بھی پیش کیے گئے۔ نئی گھڑیوں میں دل کی دھڑکن کی زیادہ بار پیمائش کرنے والے سینسر اور صحت و فٹنس سے متعلق اضافی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔ ایپل کے لیے فولڈ ایبل فون کا آغاز اس لیے بھی اہم ہے کہ آئی فون کمپنی کی سالانہ آمدن کا نصف سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے۔ اب مارکیٹ کی توجہ اس بات پر ہوگی کہ بلند قیمت کے باوجود ڈو صارفین میں کتنی جگہ بناتا ہے اور فولڈ ایبل فونز کی محدود مارکیٹ کو کس حد تک وسیع کر پاتا ہے۔




