واشنگٹن/بیجنگ: امریکا نے چھ چینی مصنوعی ذہانت کمپنیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے امریکی اے آئی اداروں کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے بڑے پیمانے پر ’ڈسٹلیشن‘ کا طریقہ استعمال کیا۔ روئٹرز کے مطابق امریکی قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس حکام نے ڈیپ سیک، مون شاٹ اے آئی اور علی بابا سمیت چھ کمپنیوں کا نام لیا اور کہا کہ ان سرگرمیوں میں امریکی ساختہ ماڈلز کے آؤٹ پٹس استعمال کیے گئے۔
ڈسٹلیشن اے آئی میں ایک معروف تکنیکی طریقہ ہے جس میں ایک بڑے اور مہنگے ماڈل کے آؤٹ پٹ سے نسبتاً چھوٹے ماڈل کو تربیت دینے میں مدد لی جاتی ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ زیر بحث چینی کمپنیوں نے یہ سرگرمیاں جارحانہ اور ہدفی انداز میں کیں اور ممکنہ طور پر چینی حکومت کو ان کا علم تھا۔ یہ امریکی حکام کا الزام ہے، کوئی عدالتی طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔
امریکی بیان میں کہا گیا کہ جن ماڈلز کو مبینہ طور پر ہدف بنایا گیا ان میں انتھروپک، اوپن اے آئی، گوگل اور اسپیس ایکس سے وابستہ امریکی اے آئی نظام شامل تھے۔ حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس طریقے سے چینی کمپنیوں کی تحقیق و ترقی کی لاگت کم ہو سکتی ہے اور ایسے نظاموں کی صلاحیتیں بڑھ سکتی ہیں جن کے فوجی یا سائبر استعمال بھی ممکن ہوں۔
چین کی وزارت تجارت نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حقائق اور قانونی بنیاد نہیں ہے۔ وزارت نے ڈسٹلیشن کو بنیادی طور پر ایک غیر جانب دار اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا تکنیکی طریقہ قرار دیا اور امریکا پر دوہرے معیار اور معمول کی تجارتی سرگرمیوں میں مداخلت کا الزام لگایا۔ چینی وزارت خارجہ نے بھی واشنگٹن سے الزام تراشی سے گریز اور اے آئی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا مطالبہ کیا۔
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین کے صدور کی ملاقات اسی ماہ متوقع ہے اور دونوں ممالک اے آئی کے حفاظتی خطرات پر الگ مکالمے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ اس لیے ٹیکنالوجی، قومی سلامتی اور دانشورانہ املاک سے متعلق یہ اختلاف وسیع تر امریکا چین تعلقات میں ایک نیا دباؤ بن سکتا ہے۔




