لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے دو افراد کو شہریوں کا حساس اور ذاتی ڈیٹا مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے حاصل، اپنے پاس رکھنے اور فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق کارروائی میں تقریباً تین ٹیرا بائٹ ڈیٹا اور دو موبائل فون بھی قبضے میں لیے گئے۔ گرفتار افراد کی شناخت ارسلان اور علی رضا کے نام سے بتائی گئی ہے۔

ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کو ایک کروڑ سے زائد شہریوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل تھی۔ برآمد شدہ مواد میں مبینہ طور پر سم کی ملکیت اور رجسٹریشن کی تفصیلات، کال ڈیٹیل ریکارڈز، سم ڈیٹا بیس، صارفین کے مقام سے متعلق معلومات، خاندانی شجرے اور مختلف سرکاری اداروں سے منسلک حساس معلومات شامل تھیں۔ یہ تمام تفصیلات این سی سی آئی اے کے ابتدائی بیان پر مبنی ہیں اور مقدمے میں الزامات کا عدالتی طور پر ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق ملزمان ایک آن لائن پلیٹ فارم ”کھوجی“ تک رسائی رکھتے تھے اور انہوں نے ”منی نادرا“ کے نام سے ایک ویب سائٹ بھی قائم کر رکھی تھی، جہاں مبینہ طور پر نادرا سے متعلق معلومات فراہم کی جاتی تھیں۔ کارروائی این سی سی آئی اے پنجاب کے ڈائریکٹر حسام بن اقبال کی ہدایات پر کی گئی۔ ایجنسی نے ضبط شدہ ڈیجیٹل آلات اور ڈیٹا کو مزید تفتیش کا حصہ بنایا ہے۔

دونوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ اس مرحلے پر ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ حساس ڈیٹا اصل میں کن نظاموں یا ذرائع سے حاصل کیا گیا، آیا کسی سرکاری ڈیٹا بیس میں براہ راست مداخلت ہوئی، یا کتنے افراد کا ڈیٹا حقیقتاً فروخت کیا گیا۔ ان سوالات کا تعین ڈیجیٹل فارنزک جانچ اور تفتیش کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

شہریوں کے شناختی، ٹیلی کمیونیکیشن اور مقام سے متعلق ڈیٹا کی غیر مجاز دستیابی رازداری اور سائبر سکیورٹی کے سنگین خدشات پیدا کرتی ہے۔ تاہم گرفتار افراد کو قانون کے تحت ملزم سمجھا جائے گا اور ان کے خلاف حتمی ذمہ داری عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد طے ہوگی۔ اس خبر میں این سی سی آئی اے کے دعووں کو الزامات کے طور پر منسوب کیا گیا ہے، نہ کہ ثابت شدہ عدالتی نتائج کے طور پر۔