لاہور: وفاقی آئینی عدالت کی لاہور رجسٹری میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے غیر محدود سوشل میڈیا استعمال اور نامناسب مواد تک رسائی پر پابندی یا مؤثر ریگولیٹری تحفظات کے لیے عدالتی ہدایات کی استدعا کی گئی ہے۔ ڈان کے مطابق درخواست وکلا شیراز ذکا اور معین اختر نے دائر کی، جن میں ایک نے خود کو سماجی کارکن جبکہ دوسرے نے کم عمر بچے کا والد قرار دیا ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ پاکستانی بچوں کو سائبر بلینگ، صارف کو طویل وقت تک پلیٹ فارم پر رکھنے والے ڈیزائن، جنسی نوعیت کے مواد اور دیگر ایسے آن لائن رجحانات کا سامنا ہے جنہیں وہ بچوں کی ذہنی اور اخلاقی نشوونما کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔ یہ نقصانات درخواست گزاروں کے دعوے اور قانونی مؤقف کا حصہ ہیں؛ عدالت نے ابھی ان دعوؤں پر کوئی حتمی فیصلہ یا حکم جاری نہیں کیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ قانونی ڈھانچے میں سوشل میڈیا استعمال کے لیے 16 سال سے کم عمر صارفین کی لازمی عمر کی تصدیق کا واضح نظام موجود نہیں۔ درخواست گزاروں نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس قانون میں کم عمر صارفین کے لیے مخصوص عمر کی حد یا جامع ویریفکیشن شرط شامل نہیں ہے۔
درخواست گزاروں نے آسٹریلیا، اٹلی اور برازیل سمیت مختلف ملکوں میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق عمر کی پابندیوں یا ریگولیٹری اقدامات کی مثالیں پیش کرتے ہوئے پاکستان میں بھی حفاظتی نظام بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم مختلف ممالک کے قوانین اور ان کے دائرہ کار میں فرق ہو سکتا ہے، اس لیے ان مثالوں کو پاکستان میں خودکار طور پر نافذ قانون نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ معاملہ بچوں کے تحفظ، اظہار اور معلومات تک رسائی، والدین کی ذمہ داری، پلیٹ فارم ڈیزائن، ڈیٹا پرائیویسی اور عمر کی تصدیق جیسے متعدد قانونی اور تکنیکی سوالات کو جوڑتا ہے۔ عمر کی تصدیق کا نظام خود بھی صارفین کی شناختی معلومات اور پرائیویسی سے متعلق مسائل پیدا کر سکتا ہے، اس لیے کسی ممکنہ ریگولیٹری فریم ورک میں بچوں کی حفاظت کے ساتھ ڈیٹا کے کم سے کم استعمال اور محفوظ تصدیق کے طریقہ کار اہم ہوں گے۔
فی الحال یہ صرف دائر شدہ درخواست ہے، عدالتی پابندی یا نیا قانون نہیں۔ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے درخواست کے قابل سماعت ہونے، فریقین کو نوٹس، عبوری حکم یا حتمی فیصلے سے متعلق جو بھی اگلی پیش رفت ہوگی، وہی اس معاملے کی قانونی سمت طے کرے گی۔ موجودہ تصدیق شدہ خبر درخواست کے دائر ہونے اور درخواست گزاروں کی جانب سے 16 سال سے کم بچوں کے لیے سخت آن لائن تحفظات مانگنے تک محدود ہے۔




