پشاور/باڑہ: خیبر پختونخوا پولیس نے شدت پسندوں کے ڈرون حملوں کے بڑھتے خطرے کے مقابلے کے لیے بعض پولیس چوکیوں اور تنصیبات پر یوکرین کے میدان جنگ میں استعمال ہونے والی طرز کی مضبوط جالیاں نصب کرنا شروع کردی ہیں۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ جال عمارتوں اور حفاظتی دیواروں کے اوپر بلند سطح پر پھیلائے جاتے ہیں تاکہ آنے والے ڈرون کو الجھایا جا سکے یا اس سے گرایا جانے والا گولہ بارود زمین تک پہنچنے سے پہلے روکا جا سکے۔

خیبر ضلع کے پولیس افسر وقار احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ تجارتی ڈرون بازار میں آسانی سے دستیاب ہیں اور معمولی تبدیلی کے ذریعے ان میں گولہ یا دیگر مواد گرانے کی کٹ نصب کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق پولیس نے اہلکاروں کو فضائی حملوں سے بچانے اور ڈرون سے ہونے والے حملوں کا خطرہ کم کرنے کے لیے ان حفاظتی جالیوں کا استعمال شروع کیا ہے۔

ڈان اور جیو نیوز میں شائع اے ایف پی رپورٹ کے مطابق یہ جال اضافی مضبوط دھاگے سے تیار کیے گئے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ڈرون جال میں پھنس جائے یا مارٹر اور دستی بم جیسا مواد عمارت سے اوپر ہی رک جائے، تاکہ دھماکے کی صورت میں نیچے موجود اہلکاروں اور تنصیبات کو نسبتاً کم نقصان پہنچے۔ پولیس پہلے سے موجود کنکریٹ رکاوٹوں اور حفاظتی دیواروں کے ساتھ اس طریقے کو اضافی دفاعی تہہ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے 2024 کے بعد حملوں اور نگرانی میں ڈرونز کا استعمال بڑھایا ہے۔ یہ دعویٰ سکیورٹی اور پولیس ذرائع سے منسوب ہے۔ پولیس بھی اپنی تکنیکی صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے؛ گزشتہ ماہ خیبر پختونخوا پولیس کے یو اے وی ڈویژن نے فورس کا پہلا ڈرون کورس منعقد کیا جس میں 52 اہلکار شریک ہوئے، جبکہ دستی جیمرز اور دوسرے کاؤنٹر ڈرون آلات بھی حاصل کیے جا رہے ہیں۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق جالیوں اور اضافی دیواروں سے بعض چوکیوں پر خطرہ کم ہوا ہے، لیکن یہ مکمل تکنیکی دفاع کا متبادل نہیں۔ کم قیمت ڈرونز کی تیزی سے بدلتی صلاحیت کے باعث سکیورٹی اداروں کو نگرانی، تربیت، الیکٹرانک جامنگ اور جسمانی رکاوٹوں کو ملا کر استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں یہ اقدام اسی ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنج کے جواب میں ایک عملی، نسبتاً کم لاگت دفاعی طریقہ ہے۔